بعض اسنادان کے اداروں سے جاری ہی نہیں ہوئے ، بڑی تعداد میں اسناد درست اور تصدیق شدہ پائی گئیں۔
مشکوک اسناد والے ملازمین اور افسران کو شو کاز نوٹس جاری ، اس کے بعد کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا سرکاری ملازمین اور افسران کی مشکوک تعلیمی اسناد کی جانچ پڑتال کے حوالے سے تیار کر دور پورٹ صوبائی حکومت کو پیش کر دی گئی ہے جبکہ ایک سال سے جاری تحقیقات اور تصدیقی عمل تقریبا مکمل کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مختلف سرکاری اداروں میں تعینات ملازمین اور افسران کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کیلئے ملک بھر کی یونیورسٹیز تعلیمی بورڈز کا لجز اور ٹیکنیکل اداروں سے رابطہ کیا گیا اس عمل میں پنجاب ، سندھ، بلوچستان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں کے تعلیمی ادارے شامل تھے ۔
جانچ پڑتال کے دوران متعدد یو نیورسٹیز تعلیمی بورڈز اور ٹیکنیکل اداروں نے بعض اسناد کے بارے میں موقف اختیار کیا کہ یہ ڈگریاں اور ٹریفکلیٹ ان کے اداروں سے جاری ہی نہیں ہوئے جبکہ بعض دیگر اسناد کو مشکوک قرار دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان کے حوالے سے پہلے سے تحقیقات جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض معاملات میں متعلقہ ملازمین اور افسران کے خلاف تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹیز میں مقدمات بھی درج کئے جاچکے ہیں جس کے باعث ان کو خصوصی نگرانی میں رکھا گیا ہے رپورٹ کے مطابق پہلے مرحلے میں مشکوک تعلیمی اسناد رکھنے والے ملازمین اور افسران کو شو کاز نوٹس جاری کئے جائیں گے ۔
اس کے بعد قانونی اور محکمانہ کارروائی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا ذرائع نے بتایا کہ جانچ پڑتال کے دوران بڑی تعداد میں ملازمین اور افسران کی اسناد درست اور تصدیق شدہ پائی گئیں جنہیں کلیئر کر دیا گیا ہے جبکہ صرف مشکوک یا غیر تصدیق شدہ اسناد کے حامل افراد کے خلاف کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔





