قرض اور سود کے لئے مختص رقم صوبے کے 26 محکموں کے ترقیاتی پروگراموں کے مجموعی فنڈز سے زیادہ45 ارب غیر ملکی قرض کی واپسی اور 54 ارب 30 کروڑ روپے سود کی ادائیگی کے لئے رکھے گئے ہیں
خیبر پختونخوا حکومت آئندہ مالی سال کے دوران قرضوں کی واپسی اور ان پر سود کی ادائیگی کی مد میں 101 ارب 16 کروڑ روپے خرچ کرے گی جو صوبے کے 34 میں سے 26 محکموں کے مجموعی ترقیاتی پروگرام سے بھی زیادہ ہے۔
سرکاری مالی دستاویزات کے مطابق قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے مختص رقم صوبے کے متعدد اہم شعبوں کے مجموعی ترقیاتی بجٹ پر بھاری پڑ رہی ہے۔
مالی دستاویزات کے مطابق صوبائی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے حاصل کردہ قرضوں کی اصل رقم کی واپسی کے لیے 45 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ ان قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 54 ارب 30 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ دیگر قرضوں کی واپسی کے لیے 36 کروڑ رو۔ کروڑ روپے اور زرعی فنانسنگ سپورٹ کے تحت سود کی ادائیگی کے لیے ایک ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اس طرح قرضوں اور سود کی ادائیگی کی مجموعی رقم 101 ارب 16 کروڑ روپے بنتی ہے۔
دوسری جانب سرکاری بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبے کے 26 محکموں کے ترقیاتی پروگراموں کے لیے مجموعی طور پر 92 ارب 53 کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔





