محکمہ قانون و انصاف 29 نئ آسامیوں کی تخلیق کا فیصلہ

محکمہ قانون و انصاف 29 نئ آسامیوں کی تخلیق کا فیصلہ

نئی آسامیوں کی تخلیق سے سالانہ مجموعی 12 کروڑ 31 لاکھ 2 ہزار روپے کا اضافی خرچہ آئیگا۔مختلف اضلاع میں ڈسٹرکٹ اٹارنی دفاتر ، لیبر کورٹس اور سروس ٹربیونلز کیلئے آسامیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں نظام انصاف کی فراہمی کو مزید بہتر اور فعال بنانے کیلئے محکمہ قانون و انصاف میں 29 نئی آسامیوں کی تخلیق کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان نئی آسامیوں کی تخلیق سے سالانہ مجموعی طور پر 12 کروڑ 31 لاکھ 2 ہزار روپے کا اضافہ خرچہ آئیگا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں ڈسٹرکٹ اٹارنی دفاتر ، لیبر کورٹس اور سروس ٹربیونلز کے لیے یہ آسامیاں پیدا کی جارہی ہیں۔ جن اضلاع اور شعبوں میں نئی آسامیاں تخلیق کی جائیں گی ان میں تو رغر، بونیر، بلگرام، بنوں، چارسدہ، ایبٹ آباد، چترال اپر، دیر لوئر ، چترال، ڈیرہ اسماعیل خان، دیر اپر ، ہنگو ، ہری پور، کوہستان ، کرک، کو ہاٹ لکی مروت، مانسہرہ، مالاکنڈ ، مردان، نوشہرہ، شانگلہ، صوابی ، اور ٹا تک شامل ہیں ۔

علاوہ ازیں پشاور میں محکمہ قانون کے لیے 14 نئی آسامیاں، پشاور لیبر کورٹ کے لیے ایڈیشنل گورنمنٹ پلیڈر کی آسامیاں اور گورنمنٹ پلیڈ ر سروس ٹربیونل پشاور کے لیے بھی نئی آسامیاں تخلیق کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

ان تمام اسکیموں کے لیے جاری اخراجات کی مد میں رقم فراہم کی جائے گی تا کہ اضلاع کی سطح پر قانونی چارہ جوئی اور انصاف کی فراہمی کے عمل میں حائل عملے کی کمی کو دور کیا جا سکے۔ اس اقدام سے صوبے کے دور دراز اضلاع بشمول چترال ، تورغر اور کو ہستان میں بھی سائلین کو ریلیف ملے گا اور عدالتی امور میں تیزی آئے گی۔

Scroll to Top