خیبر پختونخوا کے محکمۂ تعلیم نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر غیر مجاز انداز میں محکمۂ تعلیم سے منسوب پیجز چلانے والے 34 اساتذہ کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ تعلیم نے ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن اور ضلعی تعلیمی افسران (ڈی ای اوز) کو ہدایت جاری کی ہے کہ نشاندہی کیے گئے اساتذہ کو ضابطۂ اخلاق 1987 کے تحت شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں۔ یہ کارروائی محکمانہ قواعد و ضوابط کی روشنی میں عمل میں لائی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق مختلف کیڈرز سے تعلق رکھنے والے بعض اساتذہ مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر محکمۂ تعلیم کے نام سے غیر مجاز پیجز چلا رہے تھے۔ محکمۂ تعلیم کا مؤقف ہے کہ یہ پیجز سرکاری طور پر منظور شدہ نہیں تھے اور ان کے ذریعے گمراہ کن یا غیر مصدقہ معلومات شیئر کی جا رہی تھیں، جس سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔
ذرائع کے مطابق نشاندہی کیے گئے اساتذہ کا تعلق صوبے کے مختلف اضلاع اور سرکاری اسکولوں سے ہے، جبکہ انہیں نوٹسز جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ محکمۂ تعلیم نے مزید ایسے ملازمین اور اساتذہ کی نشاندہی کرنے کی بھی ہدایت کی ہے جو مبینہ طور پر غیر مجاز سوشل میڈیا سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
محکمۂ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کے نام سے صرف مجاز پلیٹ فارمز ہی معلومات جاری کرنے کے مجاز ہیں، جبکہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون اور محکمانہ ضابطوں کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔





