وفاقی حکومت کی جانب سے نئے گھریلو گیس کنکشنز پر پابندی برقرار

وفاقی حکومت کی جانب سے نئے گھریلو سوئی گیس کنکشنز پر عائد پابندی تاحال ختم نہ ہوسکی جس کے باعث ملک بھر میں ہزاروں صارفین گیس میٹروں کی تنصیب کے منتظر ہیں اور ان کی درخواستیں طویل عرصے سے التوا کا شکار ہیں۔

یہ پابندی گزشتہ دنوں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ کشیدگی کے باعث مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد متاثر ہونے کے خدشے کے پیشِ نظر عائد کی گئی تھی۔ اگرچہ اب خطے میں صورتحال کافی بہتر ہو چکی ہےتاہم حکومت کی جانب سے تاحال پابندی ہٹانے کا کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

حکومتی پالیسی کے باعث سوئی ناردرن گیس کمپنی (ایس این جی پی ایل) نئے گھریلو گیس کنکشنز کی فراہمی روکنے پر مجبور ہے۔

کمپنی کے پاس ایسے ہزاروں صارفین کے کیسز موجود ہیں جنہوں نے ایل این جی کی بنیاد پر نئے کنکشن کے لیے تقریباً 42 ہزار روپے کے ڈیمانڈ نوٹس کی رقم بھی جمع کرا دی ہےلیکن مہینوں گزرنے کے باوجود انہیں میٹرز فراہم نہیں کیے جا سکے۔

متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ تمام قانونی اور مالی تقاضے پورے کرنے کے باوجود انہیں مسلسل لارے لپے دیے جا رہے ہیںجس سے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : صارفین کیلئے خوشخبری ،حکومت کا ایل پی جی کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان

صارفین نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس سپلائی کی صورتحال بہتر ہوتے ہی پابندی فوری ختم کی جائے تاکہ فیسیں جمع کرانے والے شہریوں کو مزید انتظار نہ کرنا پڑے اور ان کا بنیادی حق انہیں مل سکے۔

Scroll to Top