فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں ٹیکس اور مالیاتی بے ضابطگیوں کی نشاندہی میں مالی سال 2024-25 کے دوران نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر میں بے ضابطگیوں کا حجم کم ہو کر 242 ارب روپے رہ گیا جو گزشتہ سال 662.7 ارب روپے تھا۔
اس طرح ایک سال میں مجموعی طور پر تقریباً 421 ارب روپے یعنی 63.5 فیصد کی واضح کمی دیکھی گئی۔
رپورٹ کے مطابق انکم ٹیکس کے شعبے میں سب سے بڑی بہتری دیکھنے میں آئی، بے ضابطگیاں 457.1 ارب روپے سے کم ہو کر تقریباً 163 ارب روپے رہ گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سپر ٹیکس کی عدم وصولی کا معاملہ بدستور اہم رہا تاہم اس میں بھی کمی دیکھی گئی جو 167.9 ارب روپے سے کم ہو کر 117 ارب روپے رہ گیا۔
اسی طرح ناجائز اخراجات کی بنیاد پر انکم ٹیکس کی کم وصولی بھی نمایاں طور پر کم ہو کر 25 ارب روپے تک آ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس وصولیاں دوگنی ہو گئیں، ایف بی آر نے 13 ٹریلین روپے کا تاریخی ہدف عبور کر لیا
سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں بھی بہتری رپورٹ ہوئی، جہاں مجموعی بے ضابطگیاں 186.7 ارب روپے سے کم ہو کر تقریباً 60 ارب روپے رہ گئیں۔
کسٹمز سیکٹر میں بھی مجموعی طور پر بہتری دیکھنے میں آئی اور بے ضابطگیاں 18.9 ارب روپے سے کم ہو کر 18 ارب روپے رہ گئیں، تاہم بعض شعبوں جیسے درآمدات کی غلط درجہ بندی اور انڈر ویلیوایشن میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی مالی بے ضابطگیوں میں کمی کے باوجود بعض شعبوں میں اب بھی نگرانی اور وصولی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔





