وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نےکہا ہےکہ نئے صوبے بنانا غیر آئینی ہوتا تو شہید ذوالفقار علی بھٹو آئین کی کتاب میں اس کا ذکر نہیں کرتے، انتظامی یونٹ صرف ہماری نہیں بلکہ پاکستان کی ضرورت بن گئی ہے ۔
کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے تحت جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پورے ملک میں کوٹہ سسٹم نہیں صرف سندھ میں ہے، پیپلزپارٹی صوبے کے عوام کو صحیح سےگننےکے لیے تیار نہیں ۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کہہ چکے ہیں کہ کراچی 3 کروڑ آبادی کا شہر ہے، 2023 میں صوبائی حکومت کی نگرانی میں مردم شماری ہوئی، 2008 کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60لاکھ تھی، 2023کی مردم شماری میں 30لاکھ کم دکھائی گئی، حیدرآباد کی مردم شماری بھی غلط کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 140اےکے تحت اختیارات نچلی سطح تک پہنچانا چاہیے، پیپلز پارٹی نے اختیارات کی نچلی سطح تک متقلی کی مخالفت کی، ن لیگ بلدیاتی حکومتوں کو اختیارات دینےکے لیے تیار تھی لیکن پیپلزپارٹی نےرکاوٹ ڈالی ۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث زور پکڑنے لگی
وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ جو نئے انتظامی یونٹ کی مخالفت کرتا ہے وہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف کرتا ہے، انتظامی یونٹ صرف ہماری نہیں بلکہ پاکستان کی ضرورت بن گئی ہے، نئے صوبے بنانا غیر آئینی ہوتا تو شہید ذوالفقار علی بھٹو آئین کی کتاب میں اس کا ذکر نہیں کرتے۔





