امریکی سینٹرل کمانڈ نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ امریکی عسکری فورسز نے ایران کے اندر فوجی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے بمباری کی ایک اور نئی لہر کو کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچا دیا ہے۔
سینٹکام کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس تازہ کارروائی کے دوران پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے کئی اہم ترین عسکری اثاثوں کو ہدف بنایا گیا، جن میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات، بحری اثاثے اور مختلف عسکری و کمیونیکیشن مراکز شامل ہیں۔ امریکی فوج نے خاص طور پر ایسے نظاموں کو نشانہ بنایا جو آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جارحانہ اقدامات آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی کوششوں اور امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے والے حالیہ واقعات کے جواب میں اٹھائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکہ کے سامنے بڑی شرط رکھ دی
سینٹکام کے مطابق اس وقت مشرق وسطیٰ میں پچاس ہزار سے زائد امریکی فوجی دستے موجود ہیں جو خطے کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں اور اعلیٰ کمانڈ کے احکامات پر مزید سخت عسکری اقدامات کرنے کے لیے ہر وقت تیار بیٹھے ہیں۔





