سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کل اپنے اجلاس میں اربوں روپے کے ورچوئل پروڈکشن اسٹوڈیو منصوبے میں تاخیر اور بولی کے عمل میں شفافیت کے معاملے پر تفصیل سے غور کرے گی۔
کمیٹی نے گزشتہ اجلاس میں سماء کی خبر کے بعد بولی کے عمل کو روکنے کا حکم دیا تھا، اور اب اگنائٹ حکام کو تمام ریکارڈ کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کا کہا گیا ہے۔
کمیٹی کے اجلاس کی صدارت چیئرپرسن پلوشہ خان کریں گی، اور اس دوران اگنائٹ کے حکام سے پوچھا جائے گا کہ بولی میں شریک کمپنی کو کس بنیاد پر کتنے نمبر دیئے گئے۔ قائمہ کمیٹی نے اگنائٹ سے وی پی ایس منصوبے کی بولی کا تمام ریکارڈ طلب کر رکھا ہے، جس میں کمپنی کی جانب سے بولی دینے کے عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
اگنائٹ کے چیف ایگزیکٹو کو منصوبے سے متعلق کمیٹی کے سوالات کے جواب دینے کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ کمیٹی کی جانب سے دیے گئے جوابات کی روشنی میں بولی کے عمل کی شفافیت کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
اجلاس میں ایک اور اہم معاملہ بھی زیر غور آئے گا، جس میں افنان اللہ خان کا پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل 2023ء شامل ہے۔ کمیٹی اس بل پر تفصیل سے بحث کرے گی اور اس کے نفاذ کے حوالے سے اہم تجاویز پر غور کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا، علیمہ خان جے آئی ٹی میں طلب
سیکریٹری آئی ٹی اور چیئرمین پی ٹی اے ایل ڈی آئی لائسنسوں کی تجدید پر بھی بریفنگ دیں گے۔ اجلاس میں چیئرمین پی ٹی اے، وزارت آئی ٹی اور دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوں گے۔
یہ اجلاس آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے، جس کے بعد بولی کے عمل کی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی اور اہم فیصلے کیے جائیں گے۔





