پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کل کرے گی جس کے بعد بڑے شہروں اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں جلد فائیو جی سروس دستیاب ہو گی جبکہ اس اقدام سے ملک بھر میں فور جی سروسز میں بھی بڑی بہتری آئے گی۔
پی ٹی اے نے فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں جس کے تحت 600 میگا ہرٹز کی نیلامی کی جائے گی۔ نیلامی کا عمل براہِ راست ہوگا اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی سافٹ ویئر کا استعمال کیا جائے گا۔ مواصلاتی کمپنیوں کی موجودگی میں سافٹ ویئر کی جانچ کا عمل پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب ہے اور کمپنیوں کے لیے نیلامی میں کم از کم 100 میگا ہرٹز اسپیکٹرم خریداری کی شرط رکھی گئی ہے۔ اتھارٹی کے مطابق سروس کے معیار میں بہتری کے لیے نیلامی میں خصوصی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق لائسنس کے نمونے اور آپریٹنگ شرائط میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
اعلیٰ معیار کی سروسز کے لیے ڈیٹا بھیجنے کی رفتار (اپ لنک) کو ڈیٹا موصول کرنے کی رفتار (ڈاؤن لنک) کے 25 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کر دیا گیا ہے۔ فائیو جی کے لیے ڈیٹا موصول کرنے کی کم سے کم رفتار 50 میگا بٹ فی سیکنڈ مقرر کی گئی ہے، جبکہ فور جی صارفین کے لیے معیار کو 4 میگا بٹ فی سیکنڈ سے بڑھا کر 20 میگا بٹ فی سیکنڈ کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔
کامیاب کمپنیوں پر لازم ہوگا کہ وہ ہر سال کم از کم 1,000 نئے ٹاورز (سائٹس) لگائیں، جن میں سے 20 فیصد ٹاورز بالکل نئے مقامات پر لگانا لازمی ہوگا۔ اسپیکٹرم کی باضابطہ نیلامی 10 مارچ 2026 کو ہوگی۔ حکومت نے مختلف بینڈز میں مجموعی طور پر تقریباً 597 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں فائیو جی سروسز وفاقی دارالحکومت اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں شروع کی جائیں گی۔





