انٹرنیشنل کرمنل کورٹ نے افغانستان میں 4سینئر طالبان رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری سے سیل ہٹا دی۔
آئی سی سی کے مطابق اس فہرست میں افغان طالبان کے امیر ہبت اللہ اخونزادہ، عبدالحکیم حقانی، حبیب اللہ آغا اور ندا محمد ندیم کے وارنٹ گرفتاری پبلک کر دیئے گئے ہیں۔
انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے مطابق ہبت اللہ اخونزادہ اور عبدالحکیم حقانی کے وارنٹ 8 جولائی 2025 جبکہ حبیب اللہ آغا اور ندا محمد ندیم کے وارنٹ 9 ستمبر 2025 کو جاری کئے گئے تھے۔
چاروں طالبان رہنماؤں پر انسانیت کے خلاف صنفی اور سیاسی بنیادوں پر ظلم و ستم کے جرم میں ذمہ داری عائد ہوتی ہے، خواتین اور لڑکیوں کو منظم طور پر بنیادی حقوق اور آزادیوں سے محروم کرنے کے شواہد موجود ہیں۔
انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کا مزید کہنا تھا کہ افغان خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، نقل و حرکت، اظہار اور خاندانی زندگی سمیت بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا، مبینہ جرائم 15 اگست 2021 سے کم از کم 20 جنوری 2025 تک جاری رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے نورستان سے متعلق افغان طالبان کے الزامات مسترد کر دیے
آئی سی سی کے مطابق طالبان پالیسی سے منسلک مبینہ مظالم میں قتل، قید، تشدد، ریپ اور جبری گمشدگیاں بھی شامل ہیں جبکہ خواتین اور لڑکیوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی سیاسی مخالف سمجھ کر نشانہ بنایا گیا۔
بین الاقوامی عدالت کے مطابق وارنٹس کو عوامی کرنے کا مقصد مزید جرائم روکنا اور عالمی تعاون بڑھانا ہے۔





