اسلام آباد: خیبرپختونخوا کی انتظامی تبدیلی اور گورنر راج کے تناظر میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ نجی ٹی وی کےپروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم کا خیبرپختونخوا کا دورہ متوقع ہے جہاں وہ صوبے کے لیے 137 ارب روپے کے شاندار ترقیاتی پیکیج کا اعلان کریں گے۔
وزیراعظم کا دورہ اور 137 ارب کا پیکیج
برسٹر عقیل نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ کے پی میں لاقانونیت اور ریاست کی کمزور عملداری جیسے سنگین مسائل کی وجہ سے ہی مجبوری کے تحت گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے میں اب ایڈوائزری کونسل تشکیل دی جا چکی ہے جبکہ انسدادِ دہشت گردی کے مؤثر اقدامات کے لیے پولیس فورس کو جدید خطوط پر مضبوط اور بہتر بنایا جا رہا ہے۔
معدنیات کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ کسی بھی غیر ملکی یا امریکی کمپنی کے ساتھ معدنیات کا کوئی کنٹریکٹ نہیں کیا گیا، یہ سب من گھڑت کہانیاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : گھر سے 12 گاڑیاں برآمد، گاڑی اور پلاٹ گرل فرینڈ کے نام: وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد کی مبینہ عیاشیوں پر صحافی طارق آفاق کے انکشافات
انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کے پی میں اکتوبر 2026 تک مجموعی طور پر 4,917 لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ 2010 تک 482 لائسنس دیے گئے تھے، اور اس دوران کے پی میں ن لیگ یا پیپلز پارٹی کی حکومت نہیں بلکہ بالترتیب مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی کی حکومتیں تھیں۔
پی ٹی آئی کی سیاست اور اپوزیشن کا کردار
پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست پر کڑی تنقید کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل نے کہا کہ پارٹی دعویٰ کرتی تھی کہ 90 فیصد عوام ان کے ساتھ ہیں، مگر سڑکوں پر کوئی طوفان نہیں نکلا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ پرامن احتجاج کی بات کی ہے لیکن قانون کے دائرے میں رہ کر۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے غیر فعال ہونے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اپوزیشن میں برائے نام موجود ہے اور ان کی طرف سے کوئی تعمیری ان پٹ نہیں آتا، یہاں تک کہ پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ ان کا اپوزیشن کا کام بھی ہم ہی کر رہے ہیں۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو سینئر سیاستدان قرار دیا مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ ان کی کسی غلط بات کی نشاندہی کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
زرعی بحران اور مہنگائی کا اصل سبب: ندیم افضل چن
پروگرام میں شریک پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما ندیم افضل چن نے ملک کی معاشی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں موجودہ مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ زراعت کا زوال اور تباہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مقدس سرزمین سعودی عرب کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ نوچ لی جائے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر
انہوں نے وضاحت کی کہ مہنگائی زراعت کے مہنگے ان پٹس، ماحولیاتی تبدیلیوں، افغان سرحد اور ایران کے ساتھ بارڈر بند یا سخت ہونے کی وجہ سے بڑھی ہے، کیونکہ ماضی میں بھارت اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کے کھلنے سے معاملات بہتر چلتے تھے۔
ندیم افضل چن نے سسٹم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آج لیڈرشپ کا شدید قحط ہے، اور عوام موجودہ الیکشن سسٹم، پارلیمان اور بیوروکریسی سے اس قدر مایوس ہو چکے ہیں کہ وہ ریاست سے بھی ناراض ہیں اور اپنا غصہ الیکشن میں ووٹ کے ذریعے نکالتے ہیں۔
انہوں نے داخلی جمہوریت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے اندر اب لوگ اپنی قیادت کے سامنے بولنے سے کتراتے ہیں، اور جو شخص اپنی قیادت سے ہی اختلاف کی جرات نہ رکھتا ہو اس سے بڑی منافقت اور کمزوری کوئی نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے ماضی اور حال کا تقابل کرتے ہوئے یاد دلایا کہ ان کے دورِ حکومت میں گندم سرپلس ہوتی تھی جبکہ آج ہمیں گندم باہر سے امپورٹ کرنا پڑ رہی ہے۔





