گھر سے 12 گاڑیاں برآمد، گاڑی اور پلاٹ گرل فرینڈ کے نام: وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد کی مبینہ عیاشیوں پر صحافی طارق آفاق کے انکشافات

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف 13سالہ طویل دورحکومت کے دوران ترقیاتی منصوبوں، سرکاری وسائل کے استعمال، صحت انصاف کارڈ، معدنیات کی لیزوں اور گندم کی تقسیم سے جڑے معاملات کے حوالے سے سنسنی خیز حقائق سامنے آئے ہیں۔

تحقیقاتی صحافی طارق آفاق نےپختون ڈیجیٹل کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے مختلف منصوبوں میں  بے ضابطگیوں، قیمتی سرکاری گاڑیوں کی تقسیم، کمیشن کے الزامات اور سرکاری فنڈز کے استعمال سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔

پوڈ کاسٹ میں خیبر پختونخوا رورل ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت خریدی گئی 12 قیمتی گاڑیوں کا معاملہ نمایاں رہا۔ گفتگو کے مطابق اس منصوبے کے لیے چھ فارچونر اور چھ دیگر ٹویوٹا گاڑیاں خریدی گئی تھیں جن کا مقصد منصوبے کے کام اور متعلقہ عملے کی ضروریات پوری کرنا تھا۔

انٹرویو میں سوال اٹھایا گیا کہ منصوبے کے لیے خریدی گئی گاڑیاں اصل مستحق ملازمین اور متعلقہ عملے کے استعمال میں رہنے کے بجائے دوسرے افراد تک کیسے پہنچیں۔ 

طارق آفاق نے بتایاکہ گاڑیوں کی تقسیم میں ایسے افراد کے نام سامنے آئے جن کا منصوبے کے روزمرہ امور سے براہِ راست تعلق واضح نہیں تھا۔

انہوں نے سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر عمیر احمد کا نام لیا گیا اور کہا کہ انہوں نے گاڑیوں میں سے ایک نئی فارچونر اپنے والد کو دے دی۔ اسی طرح فنانس مینیجر محمد طلحہ کے حوالے سے بھی تین گاڑیاں لینے اور انہیں اپنے بھائی یا دوست کو دینے کا ذکر کیا گیا۔

انٹرویو میں عبدالہادی پتنگ کا ذکر بھی کیا گیا۔ طارق آفاق کے مطابق تین گاڑیوں کے ان افراد تک پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پتنگ کے سہیل آفریدی سے تعلق، پشاور کی گاڑیوں کی خریدوفروخت کی مارکیٹ میں اس کے روابط اور مبینہ طور پر کمیشن کی رقوم کی وصولی و دیکھ بھال میں کردار کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔
انٹرویو میں سابق ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات اور سہیل آفریدی کے قریبی دوست سے متعلق بھی گاڑیوں کی تقسیم کا ذکر کیا گیاطارق آفاق نے سوال اٹھایا کہ حکومت کی تبدیلی کے باوجود یہ 12 گاڑیاں واپس کیوں نہیں لی گئیں اور انہیں اصل منصوبے یا مستحق عملے کے حوالے کیوں نہیں کیا گیا۔

 طارق آفاق نے کہا کہ  ہاؤسنگ کے وزیرڈاکٹر امجد سے متعلق ایک معاملہ زیرِ بحث آیا۔ طارق آفاق نے کہا کہ  ان کے گھر سے 12 گاڑیاں نکلنے اور ایک گاڑی ان کی گرل فرینڈ کو دیے جانے کے حوالے سے الزامات کا ذکر کیا گیا۔ اسی گفتگو میں گرل فرینڈ کے نام پر پلاٹ اور پشاور میں گھر خریدے جانے کی اطلاعات بھی بیان کی گئیں۔

طارق آفاق اور پروگرام کے میزبان نے اس معاملے کو تحریک انصاف کے تبدیلی اور احتساب کے نعروں کے تناظر میں زیرِ بحث لاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر سرکاری وسائل عوامی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے تھے تو ان کے استعمال اور تقسیم کی نگرانی کس طرح کی گئی۔

گفتگو میں مانسہرہ میں تقریباً 15 ہزار کنال اراضی پر مشتمل ایک بڑے رہائشی اور جدید سہولیات کے حامل منصوبے کا بھی ذکر ہوا۔ انٹرویو کے مطابق، اربن ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (UDA) کے تحت منصوبے کی تیاری، بیرونِ ملک سے مشینری منگوانے اور اس کے لیے پی سی ون تیار کرنے پر بات کی گئی۔

طارق آفاق نے مینا خان کے حوالے سے تقریباً 4 ارب 72 کروڑ روپے کے ایک منصوبے میں مبینہ کرپشن کے الزامات کا ذکر کیا۔ اسی گفتگو میں منصوبے کے لیے 13 ارب روپے کمیشن طلب کیے جانے کا الزام بھی بیان کیا گیا۔

انٹرویو میں اسپیکر بابر سلیم کے حوالے سے فی کنال ڈیڑھ لاکھ روپے کے حساب سے تقریباً ڈھائی ارب روپے طلب کرنے کا الزام دہرایا گیا۔ گفتگو کے مطابق، ان رقوم سے متعلق تنازعے اور مبینہ مالی مطالبات کے باعث ایک ایسے منصوبے کے رکنے کا معاملہ زیر بحث آیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس سے ہزاروں افراد کو روزگار اور رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکتی تھیں۔

طارق آفاق نے کہا کہ مختلف مطالبات کو جمع کیا جائے تو معاملہ 14 سے 15 ارب روپے تک پہنچتا ہے۔ ان کے بیان میں خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی اربن ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے منصوبوں کے تعطل اور نامکمل رہ جانے کا ذکر کیا گیا۔

انٹرویو میں پشاور ریویٹلائزیشن منصوبہ بھی زیرِ بحث آیا، جس کی مالیت پروگرام میں دو کھرب روپے بیان کی گئی۔ گفتگو کے دوران منصوبے کے تحت بننے والے انڈر پاسز اور دیگر ترقیاتی کاموں کی رفتار اور نتائج پر سوالات اٹھائے گئے۔

طارق آفاق کے  مطابق  منصوبے میں زمینی سطح پر کام مکمل ہونے سے پہلے 70 فیصد پیشگی ادائیگیوں کا معاملہ سامنے آیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے اختتام کے قریب 65 ارب روپے فنانس کے ذریعے جاری کرائے گئے۔

گفتگو میں بتایا گیا کہ یہ رقم پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (PDA) کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی۔ طارق آفاق نے مینا خان اور سہیل آفریدی سے متعلق چھ ارب روپے کمیشن لینے کے الزامات کا ذکر بھی کیا۔

یہ دعوے منصوبے کے مالی انتظام، ادائیگیوں کے طریقۂ کار اور تعمیراتی پیش رفت کی جانچ کی ضرورت کو نمایاں کرتے ہیں۔ ان کی تصدیق کے لیے جاری شدہ فنڈز، ٹھیکوں، ادائیگیوں، پیمائش کی کتابوں اور منصوبے کی موجودہ حالت کا ریکارڈ اہم ہوگا۔

انٹرویو میں شاہد خٹک اور ریاض تنولی سے متعلق خبروں کا بھی ذکر ہوا۔ طارق آفاق نے شاہد خٹک کے حوالے سے فرنٹ کمپنیوں کے ذریعے منصوبے حاصل کیے جانے کے الزامات بیان کیے، جبکہ ریاض تنولی کا نام صحت انصاف کارڈ پروگرام کے معاملات کے حوالے سے سامنے آیا۔

صحت انصاف کارڈ پروگرام سے متعلق گفتگو میں ایسے ہسپتالوں کا معاملہ اٹھایا گیا جن کے کاغذات میں موجود ہونے کے باوجود عملی طور پر ان کی موجودگی یا خدمات پر سوالات بیان کیے گئے۔ انٹرویو میں انہیں ’’گھوسٹ ہاسپٹلز‘‘ کہا گیا اور کہا  گیا کہ ایسے مراکز کے نام پر رقم نکالنے کے امکانات موجود تھے۔

طارق آفاق نے یہ بھی کہا کہ بعض معاملات میں شہریوں کے صحت کارڈ استعمال نہ کرنے کے باوجود ان کے نام پر بلنگ اور جعلی کلیمز تیار کیے جانے کے الزامات سامنے آئے۔ گفتگو میں غیر معیاری طبی اداروں کو صحت کارڈ پروگرام میں شامل کرنے اور عام ہسپتالوں میں مفت ہونے والے آپریشنز کو بھی کارڈ کے ذریعے ادا شدہ علاج ظاہر کرکے رقم وصول کرنے کے مبینہ طریقوں کا ذکر کیا گیا۔

انٹرویو میں انشورنس کمپنی کے ساتھ کمیشن طے کرنے کے الزام پر بھی بات ہوئی اور اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ صحت انصاف کارڈ سے متعلق ان الزامات کی جانچ کے لیے مریضوں کے ریکارڈ، ہسپتالوں کی فہرست، انشورنس کلیمز، ادائیگیوں اور آڈٹ رپورٹس کا جائزہ ضروری ہے۔

انٹرویو کے دوران خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل اور گزشتہ 13 سال کے دوران جاری ہونے والی لیزوں پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ طارق آفاق نے کہا کہ معدنیات کے شعبے میں اصل صورتِ حال جاننے کے لیے شور شرابے کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ مختلف ادوار میں کن افراد اور کمپنیوں کو لیزیں جاری کی گئیں اور ان سے کس نے فائدہ اٹھایا۔

گفتگو میں چترال کے علاقے میں علیمہ خان کے خاندان کے افراد کو معدنیات کی لیزیں ملنے کا ذکر کیا گیا۔ اس حوالے سے لیزوں کے اجرا اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد پر سوالات اٹھائے گئے۔

وزیرستان میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو تانبے کی لیز دیے جانے سے متعلق الزامات بھی زیرِ بحث آئے۔ انٹرویو میں اس معاملے پر مؤقف پیش کیا گیا کہ لیز قواعد کے مطابق جاری ہوئی تھی اور تنازع کی ایک وجہ خام تانبے اور ریفائن شدہ تانبے پر رائلٹی کے حساب میں فرق ہے۔

گفتگو میں وضاحت کی گئی کہ کان کنی کے بعد تانبے کو صاف کرنے اور قابلِ استعمال شکل میں لانے کا عمل الگ ہوتا ہے، اس لیے خام مال اور ریفائن شدہ دھات کی قیمت میں فرق پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں محکمہ معدنیات خیبر پختونخوا اور متعلقہ کمپنی کے درمیان رائلٹی کے حساب کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔

انٹرویو میں مہمند کے قبائلی رہنما ظہیر اللہ مہمند کے بیان کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں غیر قانونی کان کنی میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے ملوث ہونے کی بات کی گئی۔ اس کے ساتھ یہ الزام بھی بیان ہوا کہ غیر قانونی کان کنی کے پیچھے بااثر افراد اور پی ٹی آئی سے منسلک بعض لوگوں کا کردار ہو سکتا ہے۔

طارق آفاق نے ایک بیوروکریٹ کے بارے میں بھی دعویٰ بیان کیا کہ وہ ہفتے میں ایک ارب روپے مالیت کا نیفرائٹ نکال رہا ہے اور اس نے متعدد لیزیں حاصل کر رکھی ہیں معدنیات سے متعلق گفتگو میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ جن قوانین، بلوں یا لیزوں پر آج اعتراضات کیے جا رہے ہیں، ان میں سے بعض کی منظوری سابق ادوار، بشمول محمود خان اور پرویز خٹک کی حکومتوں، میں دی گئی تھی۔

انٹرویو کے آخری حصے میں نوشہرہ میں گندم کی بوریوں کی جانچ سے متعلق ایک ویڈیو دکھائی گئی۔ پروگرام میں بیان کردہ تفصیلات کے مطابق، معائنے کے دوران بعض بوریوں میں گندم کے بجائے ریت اور کنکر موجود ہونے کا معاملہ سامنے آیا۔
پروگرام میں اس واقعے کو گندم کی مبینہ اسمگلنگ اور پنجاب و خیبر پختونخوا کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں پیش کیا گیا۔ گفتگو میں کہا گیا کہ گندم کی بوریوں سے متعلق اس ویڈیو نے ان الزامات پر سوالات اٹھائے ہیں جن میں صوبوں کے درمیان گندم کی نقل و حرکت اور افغانستان اسمگلنگ کا معاملہ زیرِ بحث رہا۔

اگر سرکاری گندم کی بوریوں میں واقعی ریت اور کنکر پائے گئے تو یہ جانچ طلب معاملہ ہے کہ بوریوں کو کس مقام پر تیار کیا گیا ان کی نگرانی کس کے پاس تھی اور اس میں غفلت یا بدعنوانی کس سطح پر ہوئی۔

پختون ڈیجیٹل کے پوڈ کاسٹ میں طارق آفاق کے انٹرویو اور میزبان کے تبصروں کا مرکزی نکتہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے طویل دورِ حکومت کے دوران شروع کیے گئے منصوبوں اور سرکاری وسائل کے استعمال کا جائزہ تھا۔ گفتگو میں ترقیاتی منصوبوں کی گاڑیوں سے لے کر اربوں روپے کی ادائیگیوں، صحت کارڈ کے کلیمز، معدنیات کی لیزوں اور گندم کی بوریوں تک مختلف معاملات کو یکجا کرکے پیش کیا گیا۔

پروگرام کے آغاز میں سہیل آفریدی سے منسوب سیاسی و انتظامی حلقوں   پتنگ نامی شخص اور منصوبوں کی نگرانی کے معاملات کا ذکر ہوا۔ اس کے بعد تحقیقاتی صحافی طارق آفاق کی گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران سامنے آنے والی تحقیقاتی رپورٹس اور مختلف اسکینڈلز پر گفتگو کی گئی۔ اختتام کے قریب میزبان نے نئے انتظامی سیٹ اپ اور گورنر راج سے متعلق ذمہ داریوں کا ذکر بھی کیا۔

Scroll to Top