خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور انتظامی تبدیلیوں کے ساتھ ہی پی ٹی آئی کے ناکام 13 سالہ اقتدار کی قلعی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔
معروف سینئر صحافی و اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے پشاور کے بنیادی شہری مسائل، بالخصوص صفائی اور نکاسیِ آب کے نظام کی ابتر صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریک انصاف کے مسلسل 13 سالہ دورِ حکومت کی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
غریدہ فاروقی نے سابقہ حکمران جماعت کے طویل 13 سالہ دورِ اقتدار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے یہ چبھتا ہوا اور سلگتا ہوا سوال اٹھایا ہے کہ “پی ٹی آئی کو پورے 13 سال تک اقتدار میں رہنے کے باوجود پشاور کی صفائی اور نکاسیِ آب کا نظام درست کرنے سے آخر کس نے روکا تھا ؟ ۔
انہوں نے کہا کہ ایک طویل عرصے تک صوبے کے وسائل پر قابض رہنے کے باوجود پی ٹی آئی حکومت نے پشاور جیسے تاریخی شہر کو تباہ حال گلیوں، ابلتے ہوئے نالوں اور کوڑے کے ڈھیروں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ یہ 13 سالہ دور محض جھوٹے نعروں، ہنگامہ آرائی اور صرف اقتدار بچانے کی سیاست کا دوسرا نام تھا جہاں عوام بنیادی سہولیات کے لیے ترستے رہے۔
سینئر صحافی نے سندھ میں صفائی کے معاملات پر پی ٹی آئی کی طرف سے مچائے جانے والے سیاسی شور شرابے کو منافقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ دوسروں پر تنقید کرتے نہیں تھکتے انہوں نے خود اپنے 13 سالہ دور میں خیبرپختونخوا کے دارالحکومت کا حشر نشر کر کے رکھ دیا۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کا 13 سالہ سیاہ باب بند، کے پی کے تمام معطل فنڈز جاری، رکے ہوئے منصوبے رواں دواں
تاہم پی ٹی آئی کے اس 13 سالہ تباہ کن دور کے برعکس اب گورنر فیصل کریم کنڈی اور ان کی انتظامی ٹیم کے باقاعدہ تحرک سے خیبرپختونخوا میں طویل عرصے بعد حقیقی معنوں میں کام ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ انتظامی ٹیم کی مسلسل سرگرمیوں اور فوری اقدامات کے مثبت نتائج اب زمین پر نظر آ رہے ہیں جس نے تحریک انصاف کے 13 سالہ جھوٹے ترقیاتی دعوؤں اور انتظامی دیوالیہ پن کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔





