وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد قائم کی گئی 11 رکنی بااثر کونسل نے صوبے کے معطل شدہ انتظامی امور اور معطل ترقیاتی منصوبوں کی فوری بحالی کے لیے جامع اور اعلیٰ سطح کے اقدامات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق گورنر فیصل کریم کنڈی کی معاونت کے لیے تشکیل دی گئی یہ مشاورتی کونسل تمام سرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے، سروس ڈیلیوری کی بحالی اور صوبائی بیوروکریسی کی سخت جواب دہی کے لیے مکمل طور پر متحرک ہو چکی ہے۔
انتظامی ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی گزشتہ 13 سالہ حکومت کے دوران پیدا ہونے والے انتظامی جمود اور عوامی محرومیوں کے ازالے کے لیے 11 رکنی کونسل نے ہنگامی بنیادوں پر فیصلے صادر کیے ہیں۔
رکے ہوئے بنیادی ڈھانچے کی بحالی، بلدیاتی سہولیات اور معطل ترقیاتی منصوبوں کے لیے فوری فنڈز واگزار کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے تاکہ صوبے بھر میں امن و امان کی بحالی کے ساتھ ساتھ عوام کو دہلیز پر راحت فراہم کی جا سکے۔
نئی انتظامیہ کی بروقت اور جرأت مندانہ پیشرفت کی تازہ ترین مثال حال ہی میں پیش آنے والے دیر کالونی اسکول سانحے کے دوران سامنے آئی، جہاں حادثے کے محض ایک گھنٹے کے اندر اندر ملبے سے بچوں کو نکال کر درجنوں معصوم زندگیاں بچائی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں : اگر پاسپورٹ بنوانا ہے تو انتظار کریں، مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کی چھٹی، بڑا سرپرائز سامنے آ گیا
ریسکیو آپریشن میں پاک فوج کے جوانوں اور مقامی انتظامیہ کی مربوط کارروائی کو عوام میں زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔ اس موقع پر شعبہ صحت کی ذمہ داریاں سنبھالنے والی مشیرِ صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر نے خود ہسپتال پہنچ کر تمام زخمی بچوں کی عیادت کی، ادویات اور طبی سہولیات کی بلا تعطل فراہمی کی نگرانی کی اور صوبائی اسپتالوں و ایمرجنسی وارڈز کی ری اسٹرکچرنگ کے احکامات جاری کیے۔
مستقبل میں اس قسم کے حادثات کے سدباب کے لیے 11 رکنی کونسل نے صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کی عمارتوں کا فوری سٹرکچرل اور سیفٹی آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی، سڑکوں کی فوری مرمت اور عوامی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے ’گورنر ہیلپ لائن‘ اور مانیٹرنگ سیل قائم کیے جا رہے ہیں۔
وفاق اور گورنر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اضطراری اقدامات صوبے کو طویل سیاسی عدم استحکام سے نکال کر دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔





