مقدس املاک پر قبضہ:خیبرپختونخوا حکومت کا لینڈ مافیا کے خلاف بڑا ایکشن!

خیبرپختونخوا میں 13 سال تک اقتدار میں رہنے والی سابقہ پی ٹی آئی حکومت کی سنگین غفلت، بدانتظامی اور چشم پوشی کے باعث محکمہ اوقاف کی اربوں روپے کی دینی و قومی وقف اراضی لینڈ مافیا کے رحم و کرم پر رہی۔

گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران حکمرانوں کی عدم توجہی کے باعث نہ صرف وقف املاک پر دھڑا دھڑ غیر قانونی قبضے جمائے گئے بلکہ محکمے کو کھربوں روپے کے مالیاتی نقصان سے بھی دوچار کیا گیا۔

تاہم موجودہ حکومتی و انتظامی ڈھانچے نے اقتدار سنبھالتے ہی پی ٹی آئی دور کی اس مجرمانہ خاموشی اور غفلت کے خلاف باقاعدہ کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔

مشیر برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور مولانا طیب قریشی نے محکمہ اوقاف کے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وقف اراضی پر قابضین کی موجودگی پر انتہائی تشویش اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے سابقہ دور میں وقف املاک کے تحفظ میں ناکامی پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لینڈ مافیا کے خلاف فوری اور ہنگامی عملی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

ایڈمنسٹریٹر اوقاف گل نواز خان اور دیگر حکام کی شرکت میں ہونے والے اس اہم اجلاس کے دوران مشیر اوقاف نے واضح احکامات جاری کیے کہ تمام متعلقہ محکموں اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے ساتھ مل کر مربوط حکمت عملی کے تحت تمام وقف اراضی کو واگزار کرایا جائے۔

وقف زمینوں پر قابض افراد کے خلاف بلا امتیاز مقدمات درج کر کے سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے اور قابضین اور مختلف سرکاری محکموں سے واجب الادا اربوں روپے کے بقایا جات اور ریکوری کے لیے فوری آپریشن شروع کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : 13 سالہ ڈالا کلچر زمین بوس، ڈی پی او صوابی کے سخت احکامات پر عملدرآمد شروع

مولانا طیب قریشی نے زور دے کر کہا کہ وقف املاک ایک مقدس دینی اور قومی امانت ہیں جنہیں پی ٹی آئی دورِ اقتدار کی طرح مافیاز اور قابضین کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ان املاک کے ایک ایک انچ کی حفاظت اور درست استعمال کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

Scroll to Top