سینیٹ میں خیبر پختونخوا کو 2024 سے نمائندگی نہ مل سکی، 11نشستیں تاحال خالی

پشاور: خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی 11 نشستیں سال 2024 کے آغاز کے بعد بھی خالی رہیں، جس کی وجہ سے صوبے کو ایوان بالا میں نمائندگی نہیں مل سکی۔

صوبائی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے فیصلے میں تاخیر کے باعث سینیٹ کے انتخابی عمل میں رکاوٹ آئی، اور اس کی وجہ سے نئے ارکان ایوان بالا میں نہیں پہنچ سکے۔

خیبر پختونخوا میں 2018 کے سینیٹرز کی مدت 2024 میں مکمل ہوئی، لیکن ان کی جگہ نئے ارکان کا انتخاب نہ ہو سکا۔ صوبائی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے فیصلے میں تاخیر اور سیاسی کھیچا تانی کے باعث سینیٹ کے الیکشن میں رکاوٹ آئی اور نئے ارکان کی انتخابی عمل کا آغاز نہ ہو سکا۔

صوبائی اسمبلی میں 2 اپریل کو سینیٹ کی 7 جنرل نشستوں، دو خواتین کی نشستوں اور دو ٹیکنوکریٹ نشستوں پر انتخابات کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن مخصوص نشستوں پر فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے سینیٹ الیکشن التواء کا شکار ہو گئے۔ اس صورتحال کی وجہ سے سینیٹ میں خیبر پختونخوا کو 2024 سے نمائندگی نہ مل سکی۔

صوبائی اسمبلی میں 7 جنرل نشستوں پر 16 امیدوار، خواتین کی دو نشستوں پر چار امیدوار اور دو ٹیکنوکریٹ نشستوں پر چار امیدوار مدمقابل تھے، مگر مخصوص نشستوں کی تقسیم کے فیصلے میں تاخیر نے ان انتخابی عمل کو مؤثر طور پر روک دیا۔

سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ صوبے کی نمائندگی کو جلد بحال کیا جائے تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کی آواز سینیٹ میں سنی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں ساتھی دو سالوں سے جیلوں میں ہیں،ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا اور اب ہمیں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں، شیخ وقاص

صوبے میں سینیٹ کی نمائندگی کی عدم موجودگی کا معاملہ اس وقت اہمیت اختیار کر گیا ہے جب دیگر صوبوں میں سینیٹ انتخابات ہو چکے ہیں اور ان کے نمائندے ایوان بالا میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔

Scroll to Top