امریکی صدر کی پالیسیوں کیخلاف دنیا بھر میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے

امریکی صدر کی پالیسیوں کیخلاف دنیا بھر میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اتحادی ارب پتی بزنس مین ایلون مسک کے فیصلوں کے خلاف دینا بھر میں احتجاج، واشنگٹن اور نیویارک میں صدر ٹرمپ کے اقدامات کے خلاف مطاہرین کی جانب سے پوسٹر اور بینرز اٹھا کر ریلیاں نکالی گئیں۔

برطانیہ میں بھی امریکی صدر کی پالیسیوں کے خلاف شہری سڑکوں پر آئے، جرمنی ،پرتگال اور فرانس میں عوام نے ٹرمپ کی پالیسیوں کو مسترد کردیا، مظاہرین امریکی صدر کی پالیسیاں دنیا کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفین صدر کی جانب سے انتظامی احکامات کے ذریعے خارجی اور داخلی پالیسیوں میں کی جانے والی بڑے پیمانے پر کی جانے والی تبدیلیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

امریکا کی 50 ریاستوں کے علاوہ کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، میکسیکو اور پرتگال میں احتجاج اور ریلیاں نکالی گئیں، واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل مال، ریاستی دارالحکومت اور تمام 50 ریاستوں میں دیگر مقامات پر احتجاج کا منصوبہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف سربراہ نے امریکی ٹیرف کو عالمی معیشت کیلئے بڑا خطرہ قرار دیدیا

مظاہرین ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ہزاروں وفاقی کارکنان کی برطرفی، سوشل سیکورٹی ایڈمنسٹریشن کے فیلڈ دفاتر کی بندش، پوری کی پوری ایجنسیوں کو مؤثر طریقے سے بند کر دینے، تارکینِ وطن کی ملک بدری، مخنث لوگوں کے لیے تحفظات میں کمی اور صحت کے پروگراموں کے لیے وفاقی اعانت میں کمی کے اقدام کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے احتجاج کے بارے میں تبصرہ کرنے کے لیے ای میل پیغام کا جواب نہیں دیا، ٹرمپ نے اپنی پالیسیوں کو امریکہ کے بہترین مفاد میں قرار دیا ہے۔

Scroll to Top