اگر امریکا مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو دھمکیوں کا کیا جواز؟ ایرانی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایٹمی پروگرام پر براہ راست مذاکرات کی پیشکش پر ایران کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔

ایرانی صدر مسعود شکیان نے کہا ہے کہ ایران برابری کی بنیاد پر بات چیت کیلئے تیار ہے، انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو دھمکیاں کا کیا جواز؟

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایک طرف دھمکیاں اور دوسری طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے، امریکا صرف ایران نہیں دنیا بھر کی تذلیل کر رہا ہے، دھمکی آمیز رویہ مذاکرات کی پیشکش سے متصادم ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارت کاری میں ناکامی کی صورت میں ایران پر بمباری کی دھمکی دی ہے، دوسری طرف روس نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری ڈھانچے پر حملے کیے گئے تو اس کے تباہ کن نتائج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایران کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش کی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مصالحت کاروں کے ذریعے بات چیت کے بجائے براہ راست مذاکرات ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، جو کہ ایک کامیاب سفارتی عمل کے لیے ضروری ہے۔

اس پیشکش کے بعد عالمی سطح پر ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ممکنہ تبدیلیوں اور مذاکرات کی دوبارہ بحالی کی توقعات بڑھ گئیں ہیں۔

Scroll to Top