ٹی ٹی پی کو لگام دینے کے لیے پاک افغان مذاکرات ضروری ہیں: آفتاب شیرپاو

پشاور: قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئرمین اور سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاو نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو قابو میں کرنے کے لیے پاک افغان مذاکرات انتہائی ضروری ہیں۔

انہوں نے پختون ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہی ہے، اور دوحا معاہدے میں یہ بات واضح طور پر درج ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم، آفتاب شیرپاو کے مطابق دوحا معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، جس کی وجہ سے سرحد پار سے دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

آفتاب شیرپاو نے افغان عبوری حکومت کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے دوحا معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کے مسئلے کا حل یکطرفہ آپریشن سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہونے چاہیئں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہونے چاہییں اور دونوں ممالک کے درمیان رسمی یا غیر رسمی بات چیت کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا جانا چاہیے۔

سینئر سیاستدان آفتاب شیرپاو نے مزید کہا کہ پاکستان کے نمائندہ خصوصی صادق خان کا حالیہ دورہ کابل کامیاب رہا ہے اور وزارت خارجہ کا دورہ بھی متوقع ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا باب کھلنے کی امید ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اب تک کتنے افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جاچکے ؟

انہوں نے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کو افغانستان اور یو این ایچ سی آر کے ساتھ مل کر ایک ٹرائی لیٹرل میٹنگ کا انعقاد کرنا چاہیے تاکہ افغان مہاجرین کو باعزت طریقے سے وطن واپس بھیجا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کے خلاف پولیس کی پکڑ دھکڑ اور کارروائیاں درست نہیں اور اس کے نتیجے میں مہاجرین سے پیسے بٹورے جا رہے ہیں، جو کہ ایک غیر اخلاقی عمل ہے۔

آفتاب شیرپاو کے مطابق، پاکستان کو افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے ایک جامع اور انسانی طریقہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ ان کی عزت نفس کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں ان کے وطن واپس بھیجا جا سکے۔

Scroll to Top