خیبر پختونخوا کی جامعات میں 2 ہفتوں میں مستقل وائس چانسلرز کی تقرری کا حکم

سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دائر کردہ سی پی ایل اے کو خارج کرتے ہوئے صوبے کی 19 سرکاری جامعات میں دو ہفتوں کے اندر مستقل وائس چانسلرز کی تقرری کا حکم جاری کیا ہے۔

یاد رہے کہ نگران حکومت نے اکتوبر 2023 میں الیکشن کمیشن سے اجازت لے کر وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے انٹرویوز مکمل کیے تھے ۔ ہر جامعہ کے لیے تین تین امیدواروں کی سفارشات گورنر کو بھجوائی گئیں۔ تاہم، موجودہ صوبائی حکومت نے ان سفارشات کو مسترد کرتے ہوئے جولائی 2024 میں دوبارہ اشتہارات جاری کیے اور نئی سرچ کمیٹی قائم کی۔ متاثرہ امیدواروں نے اس اقدام کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ ہائی کورٹ نے حکومت کی تشکیل کردہ نئی سرچ کمیٹی اور دوبارہ اشتہار کے عمل کو غیر قانونی قرار دے کر نگران حکومت کے دوران مکمل کیے گئے انٹرویوز کی بنیاد پر ہی تقرریوں کا حکم دیا۔

حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، جسے عدالت عظمیٰ نے مسترد کر دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ چونکہ سرچ کمیٹی کا عمل مکمل ہو چکا تھا اور امیدواروں کی فہرست گورنر کو بھجوا دی گئی تھی، لہٰذا نئی سرچ کمیٹی تشکیل دینا اور دوبارہ اشتہار جاری کرنا غیر قانونی تھا۔

یہ بھی پڑھیں: تنخواہوں میں اضافہ مالی دباؤ میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، وی سی زرعی یونیورسٹی پشاور

اس وقت خیبر پختونخوا کی 34 میں سے 25 سرکاری جامعات مستقل وائس چانسلرز سے محروم ہیں۔اب 19یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتی جلد ہوجائے گی جبکہ باقی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر کا پراسس بھی تیز کردیاجائے گا۔

اس وقت 26 جامعات میں قائم مقام وائس چانسلرز کام کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے انتظامی و تعلیمی معاملات متاثر ہو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت فوری طور پر مستقل تقرریوں کا عمل مکمل کرے گی تاکہ جامعات میں تعلیمی و تحقیقی سرگرمیاں مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکیں۔

Scroll to Top