خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں طبی فضلہ غیر محفوظ طریقے سے تلف کئے جانے کا انکشاف

پشاور ( سلمان یوسفزئی ) خیبر پختونخوا کے متعدد بڑے سرکاری اسپتالوں میں طبی فضلہ اب بھی غیر محفوظ اور غیر سائنسی طریقوں سے تلف کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ شہریوں کی صحت کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مختلف سرکاری اسپتالوں میں استعمال شدہ سرنجز، گلوز، ڈرپ سیٹس، بلیڈز اور دیگر آلودہ طبی سامان اکثر اوقات کھلے میدانوں یا کوڑے دانوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔ اس فضلے تک کباڑیوں کی رسائی بھی عام ہو چکی ہے جو اس سے قابل فروخت اشیاء چن کر کباڑ میں بیچتے ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ متعدی فضلہ نہ صرف ان افراد کے لیے خطرناک ہے جو اسے چنتے ہیں بلکہ قریبی آبادیوں کے لیے بھی شدید صحت کے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ اس میں موجود وائرس، بیکٹیریا اور جراثیم ہوا یا جلد کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے بڑے سرکاری اسپتالوں، جیسے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (ایچ ایم سی) اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال، کا دعویٰ ہے کہ وہ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو مؤثر اور ماحولیاتی اصولوں کے مطابق بنانے کے لیے جدید سہولیات اپنا رہے ہیں۔

ایچ ایم سی کے ترجمان کے مطابق اسپتال میں دو فعال انسینیریٹرز کے ذریعے روزانہ 600 سے 700 کلوگرام طبی فضلہ تلف کیا جاتا ہے، جبکہ 1500 کلوگرام میونسپل فضلہ پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام عملہ تربیت یافتہ ہے اور اسپتال کی ویسٹ مینجمنٹ پالیسی ای پی آئی کے ایس او پیز کے مطابق ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی اقتدار کے 13 سال: خیبرپختونخواکے کسی بھی ہسپتال میں جگراور بون میرو ٹرانسپلانٹ کی سہولت دستیاب نہ ہوسکی

 

اسی طرح، خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں روزانہ 1800 کلوگرام سے زائد فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق متعدی فضلہ باقاعدگی سے آرار کمپنی کے حوالے کیا جاتا ہے جبکہ میونسپل فضلہ کی تلفی کے لیے ڈبلیو ایس ایس پی سے معاہدہ کیا گیا ہے۔ اسپتال میں حال ہی میں جدید انسینیریٹر بھی نصب کیا گیا ہے اور تربیت یافتہ عملہ بھی تعینات کیا جا چکا ہے۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ چند اسپتال ویسٹ مینجمنٹ کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، لیکن مجموعی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے اور حکومت کو فوری طور پر مؤثر نگرانی، قانون سازی اور عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ عوامی صحت اور ماحول کو لاحق خطرات سے بچا جا سکے۔

Scroll to Top