خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں مقیم سکھ کمیونٹی کے رہنماوں نے پہلگام واقعہ پر واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان حکومت اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور سنگین حالات میں کسی بھی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹی گی۔
پاکستان سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کا سیکرٹری جنرل و فنانس سیکرٹری درشن لال اور مردان سکھ برادری کمیٹی کاصدر اشوک کپور نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ماضی میں بھی بھارت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کےلئے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرتا رہا ہے اور پہلگام واقعہ پر بھارت کا ردعمل بھی اسی کا تسلسل ہے۔
پختون ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ساری سکھ برادری ایک پیج پہ ہے اور ہم پاکستانی حکومت اور فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہاں کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے لیکن پر بھی اگر بھارت کی جانب سے کوئی ہٹ دھرمی کی گئی تو ہم ہر قسم کی جانی و مالی قربانی دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں،
دونوں رہنماؤ نے اپنے بیانات میں کہا کہ بغیر کسی ثبوت کے بارڈرز بند کردینا اور سفارتی تعلقات ختم کردینا کسی ملک کو زیب نہیں دیتا انھوں نے یہ بھی کہا کہ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔





