سرکاری حکام کے مطابق واپسی کی اس تازہ لہر میں ان پاکستانی خواتین کو بھی واپس بھیج دیا گیا ہے جو شادی کے بعد بھارت گئی تھیں۔
تفصیلات کے مطابق پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک کے شہریوں کی وطن واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ آج لاہور کے واہگہ بارڈر کے راستے مزید 315 بھارتی شہری بھارت روانہ ہو گئے جبکہ بھارت سے 201 پاکستانی شہری وطن واپس پہنچے۔
سرکاری حکام کے مطابق واپسی کی اس تازہ لہر میں ان پاکستانی خواتین کو بھی واپس بھیج دیا گیا ہے جو شادی کے بعد بھارت گئی تھیں۔ ایک پاکستانی خاتون نے بتایا کہ وہ شادی کے بعد بھارت منتقل ہوئیں جہاں ان کا بیٹا پیدا ہوا، مگر پاکستانی شہریت کی بنا پر انہیں زبردستی واپس پاکستان بھیج دیا گیا، جبکہ ان کا چار ماہ کا بیٹا بھارتی شوہر کے پاس ہے۔
اسی طرح ایک اور پاکستانی خاتون نے بتایا کہ بھارت میں ان کے چار بچے پیدا ہوئے، لیکن شہریت کے باعث انہیں بھی ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ خواتین نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ان کے بچوں اور شوہروں سے دوبارہ ملنے کے لیے سفارتی سطح پر فوری اقدامات کرے۔
واضح رہے کہ حالیہ کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان شہریوں کی واپسی کا عمل روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ واہگہ بارڈر پر امیگریشن حکام اور سکیورٹی ادارے مکمل الرٹ ہیں تاکہ یہ عمل بااحسن طریقے سے انجام پا سکے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات انسانی المیہ کو جنم دیتے ہیں اور دونوں حکومتوں کو چاہیے کہ وہ انسانی بنیادوں پر پالیسی میں نرمی لاتے ہوئے ان متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ ملانے کے لیے اقدامات کریں۔





