یورپی رہنماؤں نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرین میں 30 دن کی جنگ بندی کو بغیر کسی شرط کے قبول کریں۔
اس مطالبے کے ساتھ ہی یورپی رہنماؤں نے انتباہ دیا کہ اگر ماسکو نے اس پر عمل نہ کیا تو مغربی اتحادی روس پر مزید پابندیاں عائد کریں گے اور یوکرین کو فوجی امداد فراہم کرنے میں اضافہ کر دیں گے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس معاملے پر یو ایس صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی اور انہیں کیئف میں ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا۔
ایمانوئل میکرون کے مطابق ٹرمپ نے یورپی مطالبات کی حمایت کرنے کا عہد کیا اور جنگ بندی کے نفاذ اور نگرانی میں تعاون کی پیشکش کی۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے مزید کہا کہ جنگ بندی کی نگرانی امریکہ کرے گا اور اس میں تمام یورپی ممالک بھی شامل ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ بندی سے نہ صرف یوکرین کے لیے امن کی راہ ہموار ہوگی بلکہ یہ مذاکرات کا آغاز کرے گا جس سے علاقے کی سرحدوں، توانائی کے مسائل اور سیکیورٹی کی ضمانتوں پر بات چیت کی جا سکے گی۔
یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پیوٹن کو اب مزید کسی شرط اور تاخیر کے بغیر جنگ بندی قبول کرنی چاہیے اور اس کے بعد ایک طویل المدتی امن معاہدے پر بات چیت شروع کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:مودی کو جنگی جنون مہنگا پڑ گیا، ایڈونچر نے کھربوں ڈالر کا نقصان کرایا
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا کہ پیوٹن کو اب کوئی اور اگر مگر نہیں کرنا چاہیے اس کو امن کے لیے قدم اٹھانا چاہیے، یہ بات چیت یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی کے ساتھ نو گھنٹے کی ملاقات کے دوران کی گئی۔





