روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے یوکرین کے ساتھ براہ راست امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس 15 مئی کو ترکی کے شہر استنبول میں بغیر کسی پیشگی شرط کے بات چیت کے لیے تیار ہے۔
صدر پیوٹن پیوٹن نے کہا ہے کہ روس کبھی بھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا اور وہ یوکرین کے ساتھ سنجیدہ، نتیجہ خیز اور طویل المدتی امن کے لیے بات چیت کا خواہاں ہے، انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ یوکرین کو کرنا ہے کہ وہ امن کی اس کوشش میں شامل ہوتا ہے یا نہیں۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ وہ اتوار کو ترک صدر رجب طیب اردوان سے رابطہ کریں گے تاکہ مذاکرات کے انعقاد کو حتمی شکل دی جا سکے،مزید کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد نہ صرف جنگ بندی بلکہ تنازعات کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا ہے تاکہ مستقبل میں کسی نئے تصادم کا راستہ روکا جا سکے۔
پوتن نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اگر یوکرین سے امن قائم ہو گیا تو روس کے یورپ کے ساتھ تعلقات بھی جلد بحال ہو سکتے ہیں۔
روسی صدر کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب مغربی ممالک روس پر دباؤ میں شدت لا رہے ہیں، برطانیہ، فرانس، پولینڈ اور جرمنی کے رہنماؤں نے حالیہ مشترکہ پریس کانفرنس میں ماسکو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیر سے 30 دن کی غیر مشروط جنگ بندی کا آغاز کرے بصورت دیگر سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرے۔
یہ بھی پڑھیں:یورپی رہنماؤں کا روس پر 30 دن کی غیر مشروط جنگ بندی پر زور
اس مشترکہ موقف کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت بھی حاصل ہے جنہیں یورپی رہنماؤں نے فون پر مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا، وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس بارے میں تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
مجوزہ جنگ بندی زمینی، فضائی اور سمندری محاذوں پر لڑائی روکنے کے لیے ترتیب دی گئی ہے تاکہ فریقین باقاعدہ اور تعمیری امن مذاکرات کا آغاز کر سکیں





