اسرائیل کی غزہ میں بڑے پیمانے پر زمینی کارروائی، مزید 140 فلسطینی شہید ہوگئے

غزہ: اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر زمینی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 140 فلسطینی شہید اور 361 زخمی ہو گئے ہیں۔ حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے ان اعداد و شمار کی تصدیق کی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) نے اتوار کی شام اعلان کیا کہ وہ غزہ کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر زمینی آپریشن کا آغاز کر چکی ہے، اور متعدد علاقوں کے رہائشیوں کو انخلا کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے شمالی غزہ میں ایک اسپتال سمیت متعدد مقامات کو نشانہ بنایا، جس سے شہری آبادی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس آپریشن کا مقصد حماس کو کمزور کرنا اور یرغمال بنائے گئے افراد کو بازیاب کرانا ہے۔

اس سے قبل غزہ کے محفوظ علاقے المواسی کیمپ پر اسرائیلی حملے میں 36 فلسطینی شہید ہو چکے تھے، جس کے بعد خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

ادھر اسرائیل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ قحط کی صورتحال سے بچنے کے لیے غزہ میں بنیادی خوراک کی فراہمی کی اجازت دے گا، تاہم انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ناکافی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ کی صورتحال کو ناقابل بیان، ظالمانہ اور غیر انسانی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کا محاصرہ اور فاقہ کشی کی پالیسی بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے اور امداد کی ناکہ بندی کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں ملالہ نے جنگ زدہ لبنان میں بچوں کی تعلیم کیلئے ڈیڑھ لاکھ ڈالر عطیہ کر دیے

غزہ میں جاری انسانی بحران پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ زمینی کارروائی کے بعد مزید جانی نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top