عدالت نے ریاستی اداروں کیخلاف سوشل میڈیا پر غیرمصدقہ پوسٹ شیئر کرنے کے مقدمے میں صنم جاوید کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج سلمان گھمن نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا۔ کیس کی تفتیش فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کے تحت کی جا رہی ہے، جس نے صنم جاوید کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ایف آئی اے کے مطابق صنم جاوید نے ریاستی اداروں سے متعلق ایک غیرتصدیق شدہ پوسٹ سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس سے اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا اور عوامی سطح پر منفی تاثر پیدا ہوا۔
عدالت میں ایف آئی اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ پوسٹ نے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیزی کو فروغ دیا، لہٰذا ملزمہ کو ضمانت نہ دی جائے تاکہ مزید تحقیقات متاثر نہ ہوں۔
دوسری جانب صنم جاوید کے وکلاء نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے، اور ان کی موکلہ نے کوئی مواد خود تیار نہیں کیا بلکہ صرف ایک موجودہ پوسٹ کو شیئر کیا جو پہلے ہی سوشل میڈیا پر موجود تھی۔
عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد صنم جاوید کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ موجودہ شواہد کے پیش نظر ضمانت دینا مناسب نہیں۔





