تحریک انصاف کے سابق سینئرنائب صدراور ممبرقومی اسمبلی شیرافضل مروت نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی کورکمیٹی اور سیاسی کمیٹی نا احتجاج کرسکتی ہے نادھرنےدے سکتی ہے،ان کمیٹیوں کا کام یہی ہے کہ خان کی جیل اور پی ٹی آئی کی تکلیفیں کس طرح بڑھا سکیں،9مئی کے بعدمیںنا یہ کورکمیٹی تھی ،سیاسی کمیٹی تھی اور نہ ہی یہ لوگ تھے،یہ ابھی کی پیدوار ہے جب ان کی ضرورت تھی تب یہ غائب تھے۔
پختون ڈیجیٹل پوڈ کاسٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ 9مئی کے بعد کارکنوں کو میرا کردار پسند آیا ،لوگ مجھے نہں جانتے تھے لیکن عمران خان کی وجہ سے جاننے لگے اور میرا ساتھ دینے لگے۔لوگوں نے میری تعریف اسلئے کہ میں مشکل وقت میں ان کیلئے باہر نکلا اور مظلوموں کا ساتھ دیا ،یہ دو وجوہات میری مشہوری کا سبب بنے گئے اور اس وجہ سے پارٹی میں میرے دشمن بن گئے۔کوئی یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ ورکرز کے دل میں ان سے زیادہ میری جگہ ہو۔پارٹی میں سب میرے خلاف ہیں ،مجھے تین دفعہ پارٹی سے نکالا گیا اور میرا اور ورکروں کے درمیان رشتہ ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہاکہ میرے پیچھے میڈیا لگائی گئی اور میرے اوپر ایسے الزامات لگائے گئے کہ پارٹی ورکروں کے دل میرے لئے محبت ختم ہوجائے۔میں عمران خان کی طاقت تھا ،میں نے لوگوں کو خان کیلئے نکالا اور مجھ پر الزامات لگاکر انہوں نے پی ٹی آئی ورکروں میں احتجاج کی طاقت ختم کردی ۔مجھے کوئی بتاد یں ایسا کوئی ہے جو ورکروں کو باہر نکال لیں اور حکومت کے ساتھ آنکھیں ملاسکیں۔
ایک سوال کے جواب میں شیرافضل مروت کا کہنا تھاکہ مجھے تین دفعہ پارٹی سے نکال لیا گیا اور پھر میری تذلیل کی گئی اور الزام لگایا گیا کہ یہ خان صاحب کی جگہ لے رہے ہیں ، اگر مجھے خان صاحب کی جگہ لینی ہوتی توکیا میںپھرپارٹی قیادت کے ساتھ لڑتا ۔میری اس سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اتنی بے عزتی کے بعد مجھے کونسافائدہ ہوا ،مجھے اپنے پیشے کا نقصان ہواہے۔میرا دل ٹوٹ گیا ہے خصوصی طورپر جب میر ی تذلیل کی گئی اس کے بعد حوصلہ ٹوٹ گیا ہے،البتہ ایک صورت میں ممکن ہے جب یہ لوگ یہ تسلیم کرلیں کہ انہوں نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے ورنہ میرا پارٹی میں واپس جانا نا ممکن ہے۔
انہوں نے کہاکہ پارٹی قیادت کی وجہ سے سوشل میڈیا پر میری تذلیل ہورہی ہے،ان کے اشاروں پر سب کچھ ہورہاہے۔عمران ریاض،شہباز گل سمیت پی ٹی آئی کےتمام یوٹیوبرز پی ٹی آئی قیادت کے کہنے پر میرے خلاف بولتے ہیں۔ان کے ساتھ میری کیا دشمنی لیکن یہ سب کسی کے اشارے پر کام کررہے ہیں۔یوٹیوبرز کی جانب سے میرے ساتھ جو ہوا وہ ہوا اب میری باری ہے،اپنی بے عزتی کا بدلہ ضرورت لوں گا۔اگر یہ یوٹیوبرز پاکستان میں ہوتے تو ان بتا دیتا کہ میں کون ہوں لیکن یہ باہر چھپے ہوئے ہیں ان کو عدالتوں کے زریعے زلیل کروں گا۔
شیر افضل مروت نے انکشاف کیا کہ مجھےعلیمہ خان کی وجہ سے پارٹی سے نکالا گیا ہے،انہوں نے میرے خلاف جو زبان استعمال کی ہےان کو میں نے کچھ نہیں ہے۔مجھ سے یہ نہیں ہوتا کہ خان کی وجہ سےان کی بہنوں کے بھی چپل سیدھے کروں ،میرے سے کام لینا تھا کام لیا گیا ،مجھے عزت چاہیئے جو مجھے عزت نہیں دے سکتا وہ اپنا کام کریں۔میرا علیمہ خان کے ساتھ کیا کام ہے،میرا ان سے کیا مقابلہ ، وہ میرے پیچھے لگی تھی عمران تک کبھی ایک بات پہنچاتی تھی کھبی دوسری،میں نے ان منتیں کی کہ مجھے اپنا کام کرنے دیں ،میرا کام احتجاج کرنا تھامیں نے کوئی عہدے نہیں مانگے ہیں لیکن جب میں بولا تو پھر کہنے لگے کہ خان کی بہن کو یاد کیاہے۔میرا لیڈر خان صاحب ہے خان صاحب کی وجہ سے ان کی بہنوں یا ان کی بیوں کو لیڈر نہیں بنا سکتا،اگر کوئی بنانا چاہتے ہیں بنا لیں مبار ک ہو ان کو۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت سے عمران خان کو رہا کرنے کی کوئی امید نہیں ہے،یہ وہی قیادت ہے جو نو مہینے غائب تھے،یہ خان کو جیل سے نکال کردکھائیں تو میں مان جاوں گا۔
ایک سوال کے جواب میں شیرافضل مروت کا کہنا تھاکہ وزیراعظم اور سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی باتیں جھوٹ ہے،اور اگر وہ تحریک عدم اعتماد کریں تو میرا ووٹ پی ٹی آئی کے ساتھ ہوگا۔تحریک انصاف کے ساتھ پارلیمنٹ میں انتی طاقت نہیں ہے اور مذید بھی ان کی طاقت کم ہونے جارہی ہے۔ان لوگوں نے پارٹی کی چمڑی ادھیڑ کررکھ دی ہے،9مئی سے 8فروری تک میں پارٹی کو لیکر آیا لیکن میں نے تو کچھ کر دیکھا یا لیکن اس کے بعد کے احتجاج کا کیا فائدہ جب لاکھوں لوگوں کو احتجاج کیلئے لایاجاتاہے پھر ان کی پٹائی کروائی جاتی ہے اور پھرخان صاحب کو رہائی بھی نہیں ملتی تو پھر اس احتجاج کا کیا فائدہ۔
شیرافضل مروت نےکہا کہ وہ آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتے،میں آرام کرنا چاہتاہوں،یہ سب جھوٹ ہے،سازشیں ہورہی ہیں،اور یہ خوش آمد کرنا میرے بس میں نہیں ہے۔میں اپنی وکالت کروں گا یا پھر ملک سے باہر چلا جاوں گامیں اپنی موجودہ زندگی سے مطمئن نہیں ہوں ۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان سے اعلی شخصیت کی ملاقات اور بیک ڈور مذاکرات کی باتیں جھوٹ ہیں۔اس وقت اسٹیبلشمنٹ سے کوئی مذاکرت نہیں ہورہے ہیں ۔اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات تب ہوں گے جب اسٹیبلشمنٹ کو ضرورت ہوگی۔جب تک احتجاج نہیں کیا جاتا تب تک عمران خان کی رہائی ناممکن ہے ،یہ امید نا رکھی جائے کہ مذاکرات کے زریعےکسی کو رہائی ملے گی یا کوئی انصاف ملے گا۔
پی ٹی آئی کے سابق سینئر نائب صدرکا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی کی سابقہ حکومتوں میں بہت سارا کرپشن ہوا ہے،اگر میں ان پر اعتراض کرتا تو پھر بھی کہتے تھے کہ خان صاحب کے فیصلوں پر اعتراض کررہاہے۔یہ 36ارب کا سکینڈل ہے وہاں اربوں روپے کے اور بھی بہت سارے سکینڈلز ہوئے ہیں لیکن علی امین گنڈاپور وہ سکینڈلز چھپائے ہوئے کہ پارٹی کی بدنامی ہو ،ان سکینڈلز میں ملوث لوگوں کو فوری طور پر گرفتار کرنا چاہیئے،یہ کونسا انصاف ہوگا کہ ہم اپنے چوروں کو تحفظ فراہم کریں اور باقی چوروں پر انگلیاں اٹھائیں۔عمران خان کو جب میں نے کرپشنز کے بارے میں بتایا تو وہ حیران راہ گیا، لوگ نہیں چاہتے کہ خان صاحب کو پارٹی سے متعلق حقائق سے کاپتہ چل سکے۔
انہوں نے کہاکہ بیرسٹر کو کہا ہے کہ وہ اپنے کردار،طاقت اور اختیار کو استعمال کریں ،وہ بہت شریف انسان ہیں،اگر وہ تھوڑا سا بھی اپنا رول ادا کرلیتے تو پارٹی کی یہ حالت نہ ہوتی ۔





