پاکستان نیوی آرڈیننس ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کر دیا گیا

اسلام آباد: پاکستان نیوی آرڈیننس میں ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کر دیا گیا، جس میں بحریہ سے متعلق کئی اہم نکات شامل کیے گئے ہیں۔

ترمیمی بل کے تحت صدرِ مملکت کو پاکستان نیوی اور اس کے ریزرو دستوں میں توسیع کا اختیار حاصل ہوگا۔ بل میں کہا گیا ہے کہ نیوی کا کنٹرول اور کمانڈ وفاقی حکومت کے پاس ہوگا، جبکہ انتظامی اختیارات چیف آف نیول اسٹاف کو تفویض کیے جائیں گے۔

بل میں طیاروں کی تعریف کو بھی وسعت دی گئی ہے جس میں ہوائی جہاز، ایئرشپ، گلائیڈرز اور دیگر اڑنے والی مشینیں شامل ہوں گی۔ قافلے کی صورت میں ہر بحری جہاز کے انچارج کو قافلے کے کمانڈ افسر کی ہدایات پر عملدرآمد لازم ہوگا۔

نیوی کی متعلقہ اتھارٹی کو کسی بھی شخص کو ریٹائر، سبکدوش یا برخاست کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، جب کہ استعفیٰ قبول یا مسترد کرنے کا فیصلہ بھی وہی اتھارٹی کرے گی۔

ترمیمی بل کے مطابق کسی ماتحت پر مجرمانہ طاقت کے استعمال یا بدسلوکی پر متعلقہ افسر کو مختصر قید کی سزا دی جا سکے گی۔

یہ بھی پڑھیں : ایپل کو آئی فونز کی فروخت پر 25 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا، ٹرمپ

یہ ترامیم پاکستان نیوی کے نظم و ضبط، اختیارات کی وضاحت اور انتظامی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تجویز کی گئی ہیں۔

Scroll to Top