وزیراعظم شہبازشریف نے تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی، ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال اور علاقائی اور عالمی امور پرگفتگو کی گئی۔
جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف جو گلیشئیرز کے تحفظ پر منعقدہ اعلیٰ سطح کانفرنس میں شرکت کے لیے تاجکستان کے دورے پر ہیں انہوں نے تاجک صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں تاریخی اسٹریٹیجک شراکت داری معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا، دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اشتراک پر اطمینان کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اسٹریٹیجک شراکت داری کے عزم کا اعادہ اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا جبکہ دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کے نئے شعبوں کی تلاش پر بھی اتفاق کیا۔
اعلامیے کے مطابق ملاقات میں سرمایہ کاری کے مواقعوں، تعلیمی روابط، ثقافتی تبادلوں اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ ملاقات میں کاسا-1000 کو خطے کے لیے کلیدی منصوبہ بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعظم شہبازشریف نے 15 مئی کو دوشنبے میں منعقدہ کاسا-1000 کونسل کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا اور کونسل کے معاہدے پر جلد عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت کے وسیع مواقعوں پر تبادلہ خیال کیا، دونوں رہنماؤں نے کمیشن برائے تجارت کے ساتویں سیشن کے فیصلوں پرعملدرآمد کا عزم بھی ظاہر کیا۔
اعلامیے کے مطابق ملاقات میں مختلف شعبوں میں بارہ جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ ملاقات میں خصوصی طور پر تیل اور گیس کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبوں میں بڑھتے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ ملاقات میں انسداد دہشت گردی اور انسانی اسمگلنگ کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعظم نے تاجکستان کے صدر کو جنوبی ایشیا کی صورتحال پر بھی آگاہ کیا اور حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے بھی تاجک صدر کو بریف کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مسلئہ جموں و کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل پر زور دیا۔
اعلامیے کے مطابق ملاقات میں علاقائی اور عالمی ایشوز پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت جنگی اقدام تھا، عالمی برادری غیرذمہ دارانہ رویے پر بھارت کی جواب دہی کرے، پاکستان خطےمیں امن چاہتا ہے، اپنی علاقائی خودمختاری اورسالمیت کاہرقیمت پرتحفظ کریں گے، سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنا ہوگا۔
وزیراعظم نے تاجک کرغیز سرحدی مسلئے کے پر امن حل پر تاجک صدر کو مبارکباد پیش کی اور کہا یہ تاریخی حل خطے میں امن اور ترقی کی راہ ہموار کرے گا، پاکستان امن کا خواہاں ہے تاہم اپنی خود مختاری کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گا۔
دونوں رہنماؤں نے عالمی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے سی پیک کو خطے میں ربط کاری کے لیے کلیدی منصوبہ قرار دیا جبکہ تاجک صدر نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف 3 روزہ دورہ آذربائیجان مکمل کرکےدو روزہ دورے پر تاجکستان پہنچ گئے، دوشنبہ ایئرپورٹ پر تاجک ہم منصب نے ان کا استقبال کیا۔
یہ بھی پڑھیں : سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا میں کاروائیاں،بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے سات دہشت گردہلاک
وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ اور طارق فاطمی بھی ہیں۔





