امریکی ایلچی نے حماس کی جنگ بندی کی پیشکش مسترد کر دی

امریکی ایلچی نے حماس کی جنگ بندی کی پیشکش مسترد کر دی

مشرق وسطیٰ کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے حماس کی جنگ بندی کی نئی پیشکش کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ حماس کو وہ مجوزہ معاہدہ تسلیم کرنا چاہیے جو امریکی فریق نے مذاکرات کے لیے پیش کیا ہے۔

وٹکوف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انہیں حماس کی جانب سے امریکا کی جنگ بندی تجویز پر جواب موصول ہوا ہے جو ہمیں پیچھے کی طرف لے جاتا ہے اور بالکل ناقابل قبول ہے۔

حماس کی طرف سے دی گئی تجویز میں 60 دن کے لیے جنگ بندی، 10 اسرائیلی زندہ یرغمالیوں اور 18 لاشوں کی واپسی شامل ہے، بدلے میں اسرائیل کو فلسطینی قیدی رہا کرنے ہوں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ اور ریڈ کریسنٹ جیسے اداروں کے ذریعے فوری انسانی امداد غزہ میں پہنچانے کی اجازت دینے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔

حماس کے مطابق ان کی پوزیشن یہ ہے کہ مذاکرات کا مقصد مستقل جنگ بندی، اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا اور غزہ میں انسانی امداد کی مستقل فراہمی ہونا چاہیے۔

امریکی تجویز کے مطابق جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں یرغمالیوں کی رہائی اور امداد کی فراہمی کے بعد اسرائیلی افواج کا انخلا ہوگا جس کے بعد باقی یرغمالی اور لاشیں واپس کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: روس میں پل گرنے سے ٹرین تباہ، 7 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

حماس نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ غزہ کے انتظام کے لیے ایک عارضی آزاد اتھارٹی قائم کی جائے۔

Scroll to Top