امریکی انتظامیہ نے ایچ آئی وی ویکسین کی تحقیق کے لیے ایک اہم پروگرام کی فنڈنگ 258 ملین ڈالر سے ختم کر دی ہے جس سے عالمی سطح پر ایچ آئی وی کے خلاف جنگ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
یہ پروگرام ڈیوک یونیورسٹی اور سکرپِس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے محققین کی قیادت میں چل رہا تھا جس کا مقصد ایچ آئی وی کے مختلف اقسام کے خلاف طویل المدت تحفظ فراہم کرنے والی ویکسین کی تیاری تھا۔
اس پروگرام نے براڈلی نیوٹرلائزنگ اینٹی باڈیز پر تحقیق کی جو نہ صرف ایچ آئی وی بلکہ کووڈ 19 اور دیگر خودکار بیماریوں کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہوئی تاہم نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ نے فنڈنگ ختم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب ایچ آئی وی ایڈز کے خاتمے کے لیے موجودہ طریقوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔
ماہرین صحت امریکی انتظامیہ کے اس فیصلے کو ایچ آئی وی ویکسین کی تحقیق میں ایک دہائی کی تاخیر کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شدید سولر سٹورم کا خطرہ، انٹرنیٹ، فون سگنلز اور بجلی نظام متاثر ہونے کی وارننگ جاری
نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ نے موڈرنا کی تیار کردہ ایچ آئی وی ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز کی فنڈنگ بھی روک دی ہے جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر لاکھوں افراد کی صحت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔





