پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں،ایک ایک قطرہ پاکستان کے عوام کا حق ہے،وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی کا ایک ایک قطرہ پاکستان کے عوام کا حق ہے، بھارت پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے لیکن جنگ کی دھمکیوں کا اس نے نتیجہ دیکھ لیا ہے اور اگر پانی روکا تو دشمن اس کا انجام بھی دیکھ لے گا۔

منگل کے روز خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر غور کے لیے اہم قبائلی جرگے کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سمیت دیگر سیاسی وعسکری قیادت اور قبائلی عمائدین شریک ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جرگے میں شرکت میرے لیےعزت کی بات ہے اور ہم سب بڑے غور سے آپ کی باتیں سننے کیلئے آئے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا ایک عظیم اور پاکستان کا خوبصورت صوبہ ہے جس کے عوام دلیر،غیور اور غیرت مند لوگ ہیں، یہاں کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کا دفاع کیا اور جب بھی پاکستان کی بات آئی انہوں نے قومی پرچم بلند کیا، خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیاں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سانحہ اے پی ایس ہوا تو اس کے بعد سنجیدگی کے ساتھ اہم فیصلے لیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہا این ایف سی ایوارڈ کو 15 سال ہوگئے ، نظرثانی ہونی چاہیے جس پر ایوارڈ سے متعلق کمیٹی بنانے کی ہدایت کر دی تھی اور وزیراعلیٰ نے بتایا صوبے کی نمائندگی کیلئے نام بھیج دیئے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں خیبرپختونخوا صوبہ فرنٹ لائن پر ہے، مختلف ادوار میں خیبرپختونخوا کو 700 ارب سے زائد فنڈز دیئے گئے جبکہ اُس دوران بلوچستان میں بھی دہشتگردی کے واقعات ہوتے رہے، کے پی سے متعلق معاملات کیلئے کمیٹی بنادوں گا اور فوراً بیٹھ جائیں گے، خیبرپختونخوا کے معاملات کو سنجیدگی سے دیکھیں گے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے معاملات کو آگے لے کر چلیں گے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے ساتھ پاکستان کی جنگ میں عوام کی دعائیں شامل تھیں، قوم نے افواج پاکستان اور ملکی سلامتی کیلئے دعائیں کیں، رات ڈھائی بجے فیلڈ مارشل نے مجھے بتایا بھارت نے حملہ کر دیا ہے اور ان کی قیادت میں افواج پاکستان دشمن کو سبق سکھایا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جس طرح جنگ میں اللہ نے عظیم فتح عطا کی ہے اسی طرح معاشی میدان میں بھی فتح دے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں 4 ممالک کا دورہ کیا اور اُن کے چہروں پر پاکستان فتح کی خوشی عیاں تھی۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور نےکہا ہےکہ عمران خان نے جیل میں ناحق قید ہونے کے باوجود پوری قوم کو بھارتی جارحیت کے خلاف متحد کیا، عمران خان نے بزدل دشمن کے خلاف پوری قوم کو متحد کرکے ایک لیڈر ہونے کا ثبوت دیا، عمران خان اور اپنے سپورٹرز کا دفاعِ پاکستان کیلئے بھرپور سپورٹ پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ملکی دفاع اور سالمیت کے لیے ہم ایک ہیں، سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد کا ثبوت دیا۔

وزیر اعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت سابق فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لگانے سے گریز کرے، ان علاقوں کے عوام کی مالی صورتحال ٹیکس دینے کے قابل نہیں ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضم اضلاع دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بری طرح متاثر ہوئے ہیں، ان علاقوں میں خطیر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ضم اضلاع کے لوگوں نے ملک کی خاطر بے شمار قربانیاں دی ہیں، ان کے ساتھ کیے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں۔ وفاقی حکومت ضم اضلاع کے بے گھر افراد کے معاوضوں کے پیسے جلد از جلد جاری کرے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ڈرون حملے بند کیے جائیں، ان سے بے گناہ لوگوں کا بھی بہت نقصان ہوتا ہے۔ این ایف سی میں ضم اضلاع کا حصہ صوبے کو منتقل کرنے کا فوری اعلان کیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ ہم کسی دوسرے صوبے کا حق نہیں مانگ رہے بلکہ ہمیں اپنا حق دیا جائے۔ این ایف سی سے متعلق جو وعدہ کیا گیا ہے اسے فوری پورا کیا جائے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنے ذمے خیبرپختونخوا کے تمام بقایاجات ادا کرے، یہ ہمارا جائز حق ہے۔ وفاقی حکومت صوبے کے پن بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات بھی ادا کرے۔ ٹوبیکو سیس میں صوبے کا پورا پورا حصہ دیا جائے، یہ صوبے کے لوگوں کا حق ہے۔

وزیر اعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ ضم اضلاع میں تنازعات کے پائیدار حل کے لیے جرگہ سسٹم بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں خیبرپختونخوا کو شامل کیا جائے۔

Scroll to Top