تین ہسپانوی مسلمان، عبداللہ رافائیل ہرنانڈیز مانچا، عبدالقادر حرقاسی اور طارق روڈریگز نے سات ماہ پر محیط طویل اور ایمان افروز سفر کے بعد مکہ مکرمہ پہنچ کر حج کی سعادت حاصل کرلی۔
اس تاریخی سفر کے ذریعے انہوں نے اندلسی مسلمانوں کی صدیوں پرانی روایت کو ایک بار پھر زندہ کر دیا۔یہ روح پرور ’’ریحلہ‘‘ اکتوبر 2024 میں اسپین کے علاقے اندلس سے شروع ہوا، جب عبداللہ ہرنانڈیز نے 35 برس قبل قبولِ اسلام کے وقت کیے گئے وعدے کو نبھاتے ہوئے گھوڑے پر سوار ہو کر مکہ جانے کا فیصلہ کیا۔
برف، پہاڑ، فاصلہ لیکن ہمت کا دامن نہیں چھوڑا
اس قافلے نے دورانِ سفر 6,000 کلومیٹر سے زائد فاصلہ طے کیا، جس میں پیرنیز کے بلند پہاڑ، الپس کے برفیلے راستے، اور بلقان کے دشوار گزار علاقے شامل تھے۔ یہ قافلہ فرانس، اٹلی، سلووینیا، کروشیا، بوسنیا، سربیا، ترکی، شام، اردن اور بالآخر سعودی عرب تک پہنچا۔
راستے بھر انہیں مالی اور موسمی مشکلات کا سامنا رہا، مگر مسلم علاقوں میں مقامی افراد کی مہمان نوازی، سخاوت اور دینی محبت نے ان کے قدموں کو کبھی رکنے نہ دیا۔ انہیں کھانا، رہائش اور مالی امداد مہیا کی گئی، جس نے ان کے حوصلے کو بلند رکھا۔
سفر کی کہانی وائرل، عالم اسلام کی توجہ حاصل
سعودی عرب کے ایک معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر نے ان کے ساتھ سفر کیا اور ان کی جدوجہد کو دنیا بھر میں متعارف کروایا۔ ان کی کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو شام کی نئی حکومت کے وزراء نے ان کا استقبال کیا، جبکہ ترکی اور اردن میں روزانہ افطار کے میزبان خود بخود میسر آتے رہے۔
سفر کی آخری منزل اور قربانی
حج کے دوران سعودی قوانین کے مطابق گھوڑوں کے ساتھ داخلے کی اجازت نہ ہونے کی بنا پر انہیں سپورٹ فراہم کی گئی، اور وہ بحفاظت خانہ کعبہ تک پہنچ گئے۔ حج کی ادائیگی کے بعد وہ ہوائی جہاز کے ذریعے واپس اسپین روانہ ہوں گے، تاہم ان کے ساتھ رہنے والی وفادار عربی نسل کی گھوڑیوں کو وہیں چھوڑنا پڑے گا جو اس سفر کا ایک جذباتی اور قابلِ احترام پہلو بن گیا۔
روحانی سفر، تاریخی پیغام
ان کا یہ یادگار سفر صرف ایک ذاتی عہد کی تکمیل نہیں بلکہ اسلامی تاریخ، صبر، استقامت، اور بین الاقوامی اخوت کا روشن استعارہ بن چکا ہے۔ یہ’’ریحلہ‘‘ نہ صرف اندلس کی اسلامی وراثت کو دوبارہ زندہ کرتا ہے بلکہ آج کے اسپین میں اسلام کی خوبصورت موجودگی کو بھی دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔





