بجٹ میں کن چیزوں پر چھوٹ اور کن پر ٹیکس عائد ؟ تفصیلات سامنے آگئیں 

بجٹ میں کن چیزوں پر چھوٹ اور کن پر ٹیکس عائد ؟ تفصیلات سامنے آگئیں 

آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیاجائیگا ،مختلف شعبوں پر اضافی ٹیکس لگایا جائیگا ۔
آئندہ مالی سال 2024-25 کے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 17 ہزار 600 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 14 ہزار 130 ارب روپے رکھا جائے گا۔ بجٹ میں دفاعی اخراجات میں 18 فیصد سے زائد اضافہ بھی متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے بجٹ میں 3500 سے زائد درآمدی اشیاء پر ایڈیشنل ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ کچھ درآمدی سامان پر کسٹم ڈیوٹی میں کمی بھی متوقع ہے۔

فری لانسرز، سوشل میڈیا کمائی اور زرعی آمدن ٹیکس نیٹ میں
حکومت نے بجٹ میں فری لانسرز، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے آمدن حاصل کرنے والوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ زرعی آمدن پر بھی پہلی بار ٹیکس وصولی کے آغاز کا منصوبہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ پراپرٹی پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے اور کیپٹل گین ٹیکس کی شرح بڑھانے پر بھی غور جاری ہے۔

آئی ایم ایف کی شرائط اور متنازع تجاویز
آئی ایم ایف کی سفارش پر کھاد، کیڑے مار ادویات اور بیکری مصنوعات پر ٹیکس عائد کرنے کا امکان ہے، جبکہ دلچسپ طور پر سگریٹ اور مشروبات پر ٹیکس میں کمی کی تجویز دی گئی ہے، جو ماضی کی روایت سے انحراف ہے۔ سابق فاٹا علاقوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کرکے 12 فیصد ٹیکس لگانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کیلئے رعایتیں
مجوزہ بجٹ میں گریڈ 1 سے 16 کے سرکاری ملازمین کو 30 فیصد الاؤنس دینے اور ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی تجویز شامل ہے، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 5 سے 7.5 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔

صنعتی و تعمیراتی شعبے کے لیے ممکنہ ریلیف
حکومت کی جانب سے صنعتی شعبے کے لیے خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی میں کمی کا امکان ہے، جبکہ تعمیراتی شعبے کیلئے ودہولڈنگ ٹیکس میں نرمی پر غور کیا جا رہا ہے۔ 850 سی سی تک کی مقامی گاڑیوں پر جی ایس ٹی میں 5.5 فیصد اضافہ بھی زیرغور ہے۔

تجارت و معیشت کے اہداف
بجٹ میں اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات کا ہدف 44.9 ارب ڈالر، برآمدات کا ہدف 35.3 ارب ڈالر اور درآمدات کا ہدف 65.2 ارب ڈالر مقرر کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔

Scroll to Top