پشاور:وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی ملک لیاقت علی خان نےکہا ہے کہ خلیجی ممالک جانے کے خواہشمند پاکستانی محنت کشوں کو پاکستان میں قائم ان میڈیکل سنٹرز میں ذلت آمیز سلوک کا سامنا ہے جن کا انتظام خلیجی ممالک کے اداروں کے زیر اثر ہے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں عربی زبان میں تقریرکرتے ہوئےملک لیاقت علی کا کہنا تھا کہ یہ تقریر خلیجی ممالک کے حکمرانوں کو براہ راست پیغام پہنچانے کے لیے کی گئی تاکہ وہ جان سکیں کہ پاکستان سے جانے والے محنت کش کس اذیت سے گزر رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیشتر مراکز میں ٹیسٹ کے نتائج درست نہیں دیے جاتے اور رپورٹ کے درستگی کے لیے محنت کشوں سے لاکھوں روپے رشوت لی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان میڈیکل سنٹرز میں محنت کشوں کے ساتھ جو ظلم ہو رہا ہے، وہ انسانیت کے خلاف ہے۔ اکثر شہریوں کو میڈیکل کے لیے رات بھر سنٹرز کے باہر انتظار کرنا پڑتا ہے، جہاں انہیں کسی قسم کی سہولت یا عزت کا سلوک نہیں ملتا۔
ملک لیاقت نے زور دیا کہ یہ معاملہ صرف ایک صوبے کا نہیں بلکہ قومی مسئلہ ہے، اور اس پر وفاقی حکومت کو فوری ایکشن لینا چاہیے۔
انہوں نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ معاملہ سفارتی سطح پر خلیجی ممالک کے ساتھ اٹھائے تاکہ پاکستانیوں کو انصاف مل سکے۔
عربی زبان میں تقریر کی وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے یہ انداز اس لیے اپنایا تاکہ عرب حکمران خود ہماری زبان میں سن سکیں کہ ان کے ماتحت ادارے کس طرح پاکستانی محنت کشوں کے ساتھ سلوک کر رہے ہیں۔





