خیبر پختونخوا میں امن وامان کی صورتحال خراب ہے ، فیصل کریم کنڈی

مولانا فضل الرحمٰن کو 14 سال بعد یاد آیا کہ پی ٹی آئی کرپٹ جماعت ہے،فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کو 14 سال بعد یاد آیا کہ پی ٹی آئی کرپٹ جماعت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایبٹ آباد میں پیپلز پارٹی کارکنان سے خطاب میں کیا۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی پیپلز سیکریٹریٹ آمد کے موقع پر پارٹی کارکنوں نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔

گورنر نے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ صوبہ بچاؤ مہم میں ایبٹ آباد کے کارکنوں اور خواتین کا کردار قابل تحسین ہے، انہوں نے 26 مئی کو پشاور میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شاندار شرکت پر کارکنوں کا شکریہ ادا کیا۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اس احتجاج میں پیپلز پارٹی ایبٹ آباد کی پرفارمنس نمایاں رہی، جس پر کارکنوں کو توصیفی اسناد سے نوازا گیا۔

گورنر نے کہا کہ یہ احتجاج صرف ابتدا ہے، اور جب تک صوبے میں ناانصافی اور کرپشن جاری ہے، احتجاج کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

اپنے خطاب میں فیصل کریم کنڈی نے موجودہ صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس بہت پیسے ہیں، لیکن یہ نہیں معلوم کہ یہ بیان دن میں دیا یا رات کو، کیونکہ زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کی وجہ سے خیبرپختونخوا کی حالت نہیں بدل سکی، اور وزیر اعلیٰ کے بیانات اور اقدامات میں تضاد ہے۔
گورنر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو 14 سال بعد یاد آیا کہ پی ٹی آئی کرپٹ جماعت ہے۔ تحریک انصاف اور مولانا فضل الرحمان اب ایک دوسرے پر الزامات لگانے پر اتر آئے ہیں۔

گورنر نے کہا کہ نو مئی جیسے پرتشدد واقعات میں ملوث افراد ہمارے ورکر نہیں ہو سکتے، ہمارے کارکن جمہوری سوچ کے حامل ہیں اور ریاستی اداروں کا احترام کرتے ہیں۔چھاؤنی ، کور کمانڈر گھر ، شہداء کی یادگاروں کا ہم احترام کرنے والے جمہوری اور محب وطن لوگ ہیں ۔

انہوں نے الزام لگایا کہ صوبے میں چینی، آٹا، اور مساجد کے سولر پینلز تک لوٹ لیے گئے، سولر کے 33 ارب جبکہ کوہستان میں 50 ارب روپے کی کرپشن کا حساب دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے بھائی کی منظوری کے بغیر وزارت خزانہ کوئی بل پاس نہیں کرتی، اور ٹھیکیداروں کو مخصوص رسائی دی جاتی ہے۔

گورنر نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں پیپلز پارٹی نے واضح تجاویز دی ہیں کہ مہنگائی کی شرح کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔

سولر پر ٹیکس کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بوجھ ہم عوام پر نہیں ڈالنے دیں گے۔

فیصل کریم کنڈی نے گورنر ہاؤس کو عوام کیلئے کھلا قرار دیتے ہوئے کہا کہ گورنری پارٹی اور کارکنوں کی امانت ہے، اور عوام کی ہر فورم پر آواز بنیں گے۔

یہ بھی پڑھیں :خیبرپختونخوا بجٹ 2025-26، اہم خدوخال سامنے آ گئے

انہوں نے واضح کیا کہ 26 مئی کے احتجاجی مظاہرے سے صوبہ بچاؤ مہم کا آغاز ہوا ہے جو ہر ضلع میں ظلم کے خلاف آواز بلند کرے گی۔

Scroll to Top