خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار رکھتا ہوں، کسی وقت بھی فیصلہ کر سکتا ہوں، علی امین گنڈاپور

پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ان کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے کا مکمل اختیار ہے اور وہ کسی بھی وقت یہ فیصلہ کر سکتے ہیں، اس کے لیے کسی وقت یا بجٹ کی منظوری کی ضرورت نہیں۔

اپنے ایک ویڈیو پیغام میں وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو سازش کے تحت گرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی بجٹ پیش نہ کیا گیا تو وفاقی حکومت فنانشل ایمرجنسی نافذ کرکے صوبے کا کنٹرول سنبھال سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گورنر کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ بجٹ اجلاس بلائیں، تاہم اس حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ علی امین گنڈاپور نے مزید دعویٰ کیا کہ پارٹی چیئرمین سے بجٹ پر مشاورت کی اجازت نہیں دی جا رہی، حالانکہ یہ ان کا آئینی اور اخلاقی حق ہے۔

وزیراعلیٰ نے حکومتی ارکان اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ آج ہونے والے اسمبلی اجلاس میں مطالبات زر پر کوئی ووٹنگ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کی منظوری کا عمل روک دیا گیا ہے اور آئندہ کا لائحہ عمل پیر کو دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں کانگو وائرس کیسز کی تعداد 9 ہوگئی، 3 افراد جان کی بازی ہارگئے

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ تحریک انصاف کا مینڈیٹ چوری کیا گیا، لیکن خیبر پختونخوا کے عوام نے اپنے ووٹ کی حفاظت کی۔ انہوں نے کارکنان کو خبردار کیا کہ سازشیں پھر 9 مئی اور 8 فروری جیسے حالات پیدا کرنا چاہتی ہیں، اس لیے ورکرز ذہنی اور جسمانی طور پر تیار رہیں۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر تحریک انصاف سڑکوں پر آئی تو اسلام آباد سمیت کسی بھی صوبے کا بجٹ منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے، اب نہیں تو کبھی نہیں۔

Scroll to Top