پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور ان کی پارٹی کی بجٹ مخالف حکمت عملی پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی امین نے کہا ہے اگر عمران خان سے ملاقات نہ ہوئی تو بجٹ پاس نہیں کریں گے۔ یہ کون ہے یہ بات کرنے والا؟ ان کی پارٹی نے تو کرپشن کا بازار گرم کیا ہے، ان کی اپنی کارکنان میں مایوسی پھیل چکی ہے۔
کوہستان اسکینڈل دیکھ لیں،گورنر نے وزیراعلیٰ کو چالیس بابا چور قرار دیا اور کہا پہلے خود کو ٹھیک کریں، پھر بجٹ روکنے کی بات کریں۔ ان لوگوں کے نعرے کہاں گئے بیلین ٹری سونامی کا نعرے، مگر آج انہیں شرم آنی چاہیے۔
گورنر کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کہتا ہے میرے پاس اتنا پیسہ ہے کہ میں وفاق کو پیسے دے سکتا ہوں۔ درحقیقت اس نے اپنی جیب کا اشارہ دیا ہے، کیونکہ اس نے اتنی کرپشن کی ہے کہ صوبہ ابھی مکمل کنگال ہے۔
فیصل علی امین نے کہا کہ اگران کے پاس واقعی پیسہ ہوتا تو ہمارے ٹیچرزتنخواہوں اور پنشنز کے لیے کیوں رو رہے؟گورنر نے پی ٹی آئی کی سیاسی پوزیشن پر بھی طنز کیاجو پارٹی اعتماد کی پارٹی کہلاتی تھی، آج وہ زمینی حقیقت سے کتنا مختلف ہے۔
یہ بھی پڑھیں : قبائلی عوام سے کیا گیا 100 ارب کا وعدہ تاحال وفا نہ ہو سکا، گورنر فیصل کریم کنڈی
انہوں نے گورنر ہاؤس سے سابق اسپیکر اسد قیصر کے حوالے سے تبصرہ بھی کیاگورنر نے کہا کہ آج اسد قیصر کو پیپلز پارٹی اچھی لگنے لگی؟ ماضی کی تقریریں سن لیںپہلے وہ ان کے خلاف تھے، اب تعریف کر رہے ہیں۔
آخر میں گورنر نے وزیراعلیٰ کو واضح چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر علی امین گنڈا پور میں واقعی مردِ میدان ہیں تو 30 جون تک بجٹ پاس کر کے دکھائیں، ورنہ یکم جولائی کو چائے تک نہیں پی سکیں گے۔





