خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے وفاقی حکومت کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو وفاقی حکومت ایک دن بھی نہیں چل سکے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عوام اپنے مینڈیٹ کی توہین برداشت نہیں کریں گے
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا بجٹ کسی صورت بانی تحریک انصاف کی مشاورت کے بغیر منظور نہیں ہوگا۔ ان کے بقول، عوام نے تحریک انصاف کے نظریے اور منشور کو ووٹ دیا ہے، اس لیے بجٹ بھی اسی نظریے کی روشنی میں پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں حکومت ’’فارم 45‘‘ کی بنیاد پر قائم ہے، جبکہ وفاق اور دیگر صوبوں کی حکومتیں ’’فارم 47‘‘ کے جعلی میناروں پر کھڑی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی حکومتیں محض ایک دھکے سے گر سکتی ہیں۔
بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اختیار صرف وزیراعلیٰ کو حاصل ہے، اور وہ جب چاہیں یہ اختیار استعمال کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے کے تمام فیصلے حقیقی عوامی نمائندوں کی مشاورت سے کیے جائیں گے اور کسی بیرونی دباؤ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ خیبرپختونخوا کے آئینی اختیارات کو سلب کرنے کی کوشش نہ کرے، کیونکہ ایسی کسی بھی کارروائی کے نتائج خطرناک ہوں گے۔
بیرسٹر سیف کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سیاسی ماحول کشیدہ ہے اور بجٹ اجلاس قریب ہے۔ ان کے ریمارکس نے مرکز اور خیبرپختونخوا کے درمیان ممکنہ سیاسی محاذ آرائی کے اشارے دے دیے ہیں۔





