پاکستان میں مہنگائی بڑھ گئی، حکومتی ادارے کی رپورٹ

وفاقی ادارہ شماریات نے ہفتہ وار مہنگائی کے تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.27 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے نے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے روزمرہ استعمال کی متعدد اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ چینی کی قیمت میں فی کلو 3 روپے 77 پیسے کا اضافہ ہوا جس کے بعد اس کی اوسط قیمت 180 روپے 93 پیسے فی کلو تک پہنچ گئی۔

اسی طرح مرغی کا گوشت فی کلو 7 روپے 28 پیسے مہنگا ہوا، آلو کی قیمت میں 2 روپے 9 پیسے، گُڑ کی قیمت میں 5 روپے 8 پیسے اور سرسوں کے تیل میں 5 روپے 91 پیسے کا اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ دال مونگ، ماش، مسور اور پیاز کی قیمتیں بھی اوپر چلی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور گھریلو سلنڈر 452 روپے 47 پیسے مہنگا ہو گیا۔

تاہم، مہنگائی کی لہر کے باوجود کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے میں آئی۔ انڈے فی درجن 31 روپے 2 پیسے سستے ہوئے، ٹماٹر کی قیمت میں 4 روپے 17 پیسے اور لہسن کی قیمت میں 3 روپے 37 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ دال چنا، خوردنی گھی، تیل اور کیلے کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی ہوئی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ حالیہ ہفتے کے دوران 23 اشیاء کی قیمتوں میں کمی، 20 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام جبکہ دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

مہنگائی کی اس حالیہ لہر نے عوام کی روزمرہ زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے، جبکہ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں عوام کی قوتِ خرید مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

Scroll to Top