خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عباد اللہ نےکہا ہے کہ 2013 میں جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو خیبر پختونخوا پر صرف 150 ارب روپے قرض تھا، جو اب بڑھ کر 800 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
پیر کے روز خیبرپختونخوا اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈرعباداللہ نے وزیراعلیٰ سے مخاطب ہو کر کہا کہ سابق وزیر اعظم کی برطرفی کے حوالے سے آپ نے کہا کہ رجیم چینج سازش کے تحت نکالا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ واحد وزیراعظم تھے جنہیں آئینی طریقے سے ہٹایا گیا۔
مزید کہا کہ “عید کی رات آپ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے آئے، لیکن بجٹ پر بات کیوں نہیں کی؟خان صاحب کی بہن علیمہ بی بی کی ٹویٹ ہے کہ بجٹ پاس نہیں کرنا ۔
اپوزیشن لیڈر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کے خاندان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے دوران ان کے بھتیجے کو صرف ایک تقریر کی بنیاد پر ایف آئی اے نے اٹھایا، خان صاحب کی حکومت میں رانا ثنا ء اللہ کی گاڑی میں من چرس رکھ دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:شوگر ایڈوائزری بورڈ کی 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب مرکز، پنجاب، اور دیگر صوبوں پر پی ٹی آئی کی حکومت تھی، تو این ایف سی ایوارڈ پر کیوں بات نہیں کی گئی؟ اور فاٹا کے انضمام کے بعد وہاں کے عوام کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے؟
انہوں نے کہا کہ قول و فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہیے،آپ اپنے ووٹر اور سپورٹر پر خود ہی عدم اعتماد کر چکے ہیں۔





