ہتک عزت کیس ،اسفندیارولی خان نےشوکت یوسفزئی کے خلاف مقدمہ جیت لیا

پشاور:عوامی نیشنل پارٹی کے رہبر تحریک اسفندیار ولی خان پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی کے خلاف ہتک عزت کیس میں سرخرو ہوگئے ہیں۔

پشاور کی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے رہبرِ تحریک اسفندیار ولی خان کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمے میں ہرجانہ ادا کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔

یاد رہے کہ یہ دعویٰ چھ سال قبل اسفندیار ولی خان کی جانب سے طارق افغان ایڈووکیٹ اور سجید آفریدی ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کیا گیا تھا۔ کیس میں طویل قانونی چارہ جوئی، گواہیوں، جرح اور متعدد سماعتوں کے بعد عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ شوکت یوسفزئی کی جانب سے دیے گئے بیانات نہ صرف بے بنیاد تھے بلکہ اسفندیار ولی خان کی ساکھ اور عزت نفس کو مجروح کرنے کے مترادف تھے۔

فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان کے وکیل طارق افغان ایڈوکیٹ نے کہا کہ اسفندیار ولی خان، جو نہ صرف ایک قومی رہنما ہیں بلکہ بابائے امن خان عبدالغفار خان کے فکر و فلسفے کے وارث بھی ہیں، نے ہمیشہ پُرامن سیاست اور جمہوری اقدار کو فروغ دیا ہے۔ ان کے خلاف بے بنیاد الزامات محض سیاسی انتقام کی ایک کڑی تھے، جس کا مقصد ان کی جدوجہد کو سبوتاژ کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ صرف اسفندیار ولی خان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ تمام ان قوتوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو سیاسی کردار کشی کو اپنا وطیرہ بنا چکی ہیں۔ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سچ کبھی چھپ نہیں سکتا، اور عدالتوں میں انصاف بالآخر سرخرو ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ماہانہ 1 لاکھ سے 3 لاکھ تک تنخواہ والوں کو کتنا ٹیکس ادا کرنا ہوگا؟ اہم خبر

عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے اس تاریخی فیصلے پر کہا کہ “میں عدالت کے اس تاریخی فیصلے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ یہ فیصلہ نہ صرف اے این پی بلکہ ہر اُس فرد کی جیت ہے جو سچ، اصول پسندی اور جمہوریت پر یقین رکھتا ہے۔

Scroll to Top