گورنر این ڈی ایم اے کو متحرک کرتے تو سانحہ سوات ٹل سکتا تھا، ظاہر شاہ طورو

گورنر این ڈی ایم اے کو متحرک کرتے تو سانحہ سوات ٹل سکتا تھا، ظاہر شاہ طورو

خیبرپختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے کہا ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا این ڈی ایم اے کو فعال کر کے سانحہ سوات جیسی حادثات کو روک سکتے تھے لیکن انہوں نے سیاست چمکانے کو ترجیح دی۔

سانحہ سوات میں مردان سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے تین شہیدوں کے لواحقین سے تعزیت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خوراک نے کہا کہ گورنر کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور بے بنیاد تنقید کرنے سے پہلے خود اپنی ذمہ داریوں کا جائزہ لینا چاہیے۔

ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ گورنر صوبے میں وفاق کا نمائندہ ہوتے ہوئے این ڈی ایم اے کی کارکردگی پر سوالات اٹھانے کے بجائے اس کی خدمات حاصل کر سکتے تھے مگر وہ عوام کی خدمت کے بجائے سیاست چمکانے میں مصروف ہیں، موجودہ نازک حالات میں قدرتی آفات پر سیاست کرنا انتہائی نقصان دہ ہے اور اس سے گریز کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ضلعی انتظامی افسران اور دیگر محکموں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے مبینہ غفلت برتنے والے افسران کو معطل کیا ہے، مزید تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

ظاہر شاہ طورو نے وفاق، پنجاب کے وزرا اور گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے قدرتی آفات پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ گورنر اور سوات سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر نے این ڈی ایم اے کے خلاف کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا اور گورنر صرف میڈیا میں اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صوبائی وزیر طاہر شاہ طورو نے مطالبہ کیا کہ گورنر کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی جائے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر اعلیٰ سیاحوں کے قاتل ہیں، فوری ایف آئی آر درج کی جائے، اپوزیشن لیڈر

صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا ریسکیو 1122 سمیت دیگر اداروں میں اصلاحات لا رہی ہے تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

 دریائے سوات کے کناروں سے تجاوزات ہٹانے کا عمل بھی شروع کیا جا چکا ہے تاکہ قدرتی آفات کے خطرات کم کیے جا سکیں۔

Scroll to Top