اپوزیشن لیڈر عباد خان نے سوات میں پیش آنے والے حالیہ سانحے کو قتل قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور ڈی جی ریسکیو کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سوات میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عباد خان کا کہنا تھا کہ “یہ آفت نہیں، قتل تھا۔ ان سیاحوں کو بچایا جا سکتا تھا، لیکن جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ ان جانوں کے ضیاع کے ذمہ دار ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ پشاور سے سوات تک ہیلی کاپٹر صرف 23 منٹ میں پہنچ سکتا ہے، اس کے باوجود متاثرین کی مدد کے لیے ہیلی کاپٹر نہ بھیجنا مجرمانہ غفلت ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے سوال اٹھایا کہ ریسکیو کے لیے ہیلی کاپٹر کیوں نہیں بھیجا گیا؟ اور اس سوال کا جواب کون دے گا؟
عباد خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس واقعے پر خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے اسپیکر سے رابطہ کیا، لیکن اسپیکر نے یکم جولائی کو طے شدہ اجلاس ہی ملتوی کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ “اتنے بڑے سانحے کے باوجود اسمبلی اجلاس نہ بلانا اور حکومتی بے حسی عوام کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے، جسے ہم ہرگز قبول نہیں کریں گے۔”
اپوزیشن لیڈر نے وزیر اعلیٰ سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی ریسکیو کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ریسکیو ٹیم موقع پر 15 منٹ میں پہنچ گئی تھی لیکن وقت کم اور پانی کا بہاؤ تیز تھا، ڈی جی ریسکیوخیبر پختونخوا
ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں منظم انداز میں کرپشن ہو رہی ہے، جس کے خلاف جلد سخت اقدامات کیے جائیں گے۔





