جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکمران سیاسی شعور سے مکمل طور پر عاری ہیں اور ان میں قوم، ملک اور قیادت کے تقاضوں کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے بٹگرام میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مان لو کہ تم سیاسی شعور سے عاری ہو، تمہارے فیصلوں نے پہلے فاٹا اور اب کشمیر کے دروازے کھول دیے ہیں۔
انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے امریکا کو راضی کرنے کے لیے قوم کے فیصلے قربان کیے، اسلامی، جمہوری اور آئینی نعروں کو محض دکھاوا بنا کر رکھ دیا ہے۔
فضل الرحمان نے مزید کہا کہ جمعیت صرف ایک جماعت نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے جبکہ تمہاری کھوپڑیوں میں بھوسا ہے اور تم اس قوم کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔
انہوں نے فاٹا انضمام کو کشمیر کی آئینی حیثیت کے خاتمے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کشمیر کی حیثیت ایسے ہی ختم کی جیسے تم نے فاٹا کو ضم کیا۔
سربراہ جےیو آئی نے کہا کہ دھاندلی سے آنے والے حکمرانوں نے پارلیمنٹ کے وقار کو پامال کیا اور ملک کو شرعی اصولوں سے محروم کر کے ایک فکری بحران میں مبتلا کر دیا ہے،
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ہمارا احتجاج، ہمارا اجتماع باطل کے خلاف جدوجہد کی علامت ہے، ہم نے 2018 میں بھی الیکشن نتائج تسلیم نہیں کیے 2024 کے بھی مسترد کرتے ہیں۔ نہ پہلے حکومت کو چلنے دیا تھا نہ اب چلنے دیں گے۔





