وفاقی حکومت نے مالی سال 2024-25 کے لیے مہنگائی کا مقررہ ہدف حاصل کر لیا ہے، تاہم اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود ڈبل ڈیجٹ پر برقرار رکھنے کے باعث ملک کی معاشی شرح نمو بری طرح متاثر ہوئی، کاروباری لاگت میں اضافہ ہوا اور ملکی برآمدات علاقائی ممالک کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ رہیں۔
وفاقی ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران افراط زر کی اوسط شرح 4.49 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ جون 2025 میں مہنگائی کی ماہانہ شرح صرف 3.23 فیصد رہی۔ وزارتِ خزانہ نے جون کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 3 سے 4 فیصد لگایا تھا، جو درست ثابت ہوا۔
نجی ٹی وی چینل(ایکسپریس نیوز)کے مطابق شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح 3 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 3.58 فیصد رہی۔ اگرچہ مجموعی طور پر مہنگائی کنٹرول میں رہی، لیکن خوراک کی بعض اشیاء میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چینی کی قیمت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف ایک ماہ میں 25 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ بغیر اسٹاک چیک کے برآمد اور 18 فیصد سیلز ٹیکس کو قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح انڈے 25 فیصد، خشک دودھ 22 فیصد اور گوشت 11 فیصد مہنگا ہوا، جبکہ دوسری جانب پیاز کی قیمت میں 56 فیصد، ٹماٹر اور گندم میں 17 فیصد اور بجلی کے نرخوں میں 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ پٹرول پر ٹیکس کے باوجود اس کی قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں 2 فیصد کم رہی۔
ماہرین کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ افراط زر میں کمی کے باوجود کیا گیا، جس کا مقصد آئی ایم ایف اور حکومتی تخمینوں کے مطابق مہنگائی کے دباؤ سے بچاؤ تھا۔ تاہم اس فیصلے کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور سرمایہ کاری کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا۔
اقتصادی ماہرین اور آزاد تھنک ٹینکس کے مطابق زیادہ شرح سود کا فائدہ صرف کمرشل بینکوں کو ہوا، جبکہ حکومت کو قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں رواں مالی سال 8,200 ارب روپے مختص کرنا پڑے، جو مجموعی بجٹ کا 46 فیصد ہے۔ موجودہ 11 فیصد شرح سود کے باعث حکومت کو صرف سود کی ادائیگی پر 7,200 ارب روپے خرچ کرنا ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شرح سود کو 6 فیصد تک لایا جائے تو حکومت سالانہ تقریباً 3,000 ارب روپے بچا سکتی ہے، جنہیں روزگار کے مواقع پیدا کرنے، کاروباری اخراجات کم کرنے اور صنعتی ترقی پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔
ادارہ شماریات نے یہ رپورٹ 35 شہروں سے 356 اور 27 دیہی مراکز سے 244 اشیائے صرف کے ڈیٹا کی بنیاد پر مرتب کی ہے، جس کے مطابق شہری علاقوں میں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ 4.2 فیصد سے کم ہو کر 2.4 فیصد پر آ گیا ہے۔





