خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ سانحہ سوات میں غفلت برتنے والے افراد کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے، اور ابتدائی طور پر چند ذمہ داران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
بیرسٹر سیف ایک اعلیٰ سطحی حکومتی وفد کے ہمراہ سوات کے حالیہ سیلاب میں شہید ہونے والے مردان کے ایک ہی خاندان کے 3 افراد کے لواحقین سے تعزیت کے لیے ان کے گھر پہنچے۔ وفد نے متاثرہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا تعزیتی پیغام بھی پہنچایا۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور پوری حکومت متاثرین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ سوات ایک افسوسناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم سوگوار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ موسمی حالات پر کسی کا اختیار نہیں، لیکن اس کے باوجود جہاں کہیں بھی انسانی غفلت یا کوتاہی سامنے آئی ہے، وہاں سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ حکومت نے اس سلسلے میں چند ذمہ داران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے، جبکہ مزید کارروائیاں بھی جلد متوقع ہیں۔
مشیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے، جس نے تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ رپورٹ مکمل ہونے کے بعد مزید غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے کی رقم جلد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنے نقصان کی کچھ حد تک تلافی کر سکیں۔





