ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اسرائیل کے ساتھ حالیہ 12 روزہ جنگ کے بعد پہلی بار عوامی طور پر منظر عام پر آ گئے۔
ایرانی سپریم لیڈر شب عاشور کی مناسبت سے تہران کی امام خمینی حسینیہ میں منعقدہ مجلس عزا میں شریک ہوئے یہ مجلس حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے رفقا کی شہادت کی یاد میں ہر سال منائی جاتی ہے۔
مجلس میں آیت اللہ خامنہ ای کی آمد پر شرکاء نے ان کا پُرجوش استقبال کیا ان کا یہ ظہور نہ صرف مذہبی عقیدت کا مظہر تھا بلکہ اسے ایران کی جانب سے استقامت اور فتح کے علامتی پیغام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جنگ کے بعد اپنے بیانات میں آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
جنگ کے دوران آیت اللہ خامنہ ای حفاظتی اقدامات کے تحت بنکر میں منتقل ہو گئے تھے اور اب بھی ان کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی یونٹس تعینات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حماس نے قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی پر ثالثوں کو مثبت جواب دیدیا
مجلس کے موقع پر ایرانی صدر بھی موجود تھے۔ یہ مجلس ہر سال حضرت امام حسین علیہ السلام اور اُن کے رفقا کی شہادت کی یاد میں منعقد کی جاتی ہے۔





